حوثی ملیشیا کا سعودی آئل ٹینکر پر حملہ، 3 پاکستانیوں سمیت 4 افراد جاں بحق

یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب میں سعودی آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں عملے کے چار ارکان کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یمن کی وزارتِ نقل و حمل نے بتایا ہے کہ باب المندب آبنائے میں حوثیوں کے حملے میں چھوٹے مال بردار جہاز پر سوار 4 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں تین پاکستانی اور ایک انڈونیشین شہری شامل ہیں۔

یمنی وزارت کے مطابق حملے کے بعد جہاز کے عملے نے اس کا کنٹرول کھو دیا، جبکہ عملے کو بچانے کی کوشش کرنے والے تین ساحلی محافظ بھی ڈرون حملے میں زخمی ہوئے۔ برطانوی بحریہ سے وابستہ ادارے ’یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز‘ کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق جہاز کو ایک نامعلوم شے سے نشانہ بنایا گیا۔

بحری سلامتی کے ادارے ’ایمبری‘ کے مطابق واقعہ یمن کے جزیرے پیریم کے شمال مشرق میں اس وقت پیش آیا جب جہاز لنگر انداز تھا۔ ذرائع کے مطابق نشانہ بننے والا جہاز مصری ملکیت کا ’تہامہ‘ تھا، تاہم حوثیوں نے تاحال اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

’رائٹرز‘ کے مطابق اگر حملے میں ہلاکتوں کی تصدیق ہوتی ہے تو 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد بحری جہاز رانی کے خلاف حوثیوں کے کسی حملے میں یہ پہلی ہلاکتیں ہوں گی۔

اس سے قبل الجمہوریہ ٹی وی نے جاں بحق ہونے والے افراد کی قومیت کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دو پاکستانی اور ایک انڈونیشین شہری جان کی بازی ہارے ہیں۔ تاہم ان افراد کے نام یا ان کی ملازمت سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب حوثی گروپ کی طرف سے اس حملے کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان یا تبصرہ سامنے نہیں آیا، اس لیے حملے کی ذمہ داری اور اس سے متعلق دیگر تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

باب المندب عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ یہ بحیرہ احمر کا داخلی راستہ ہے اور جزیرہ نما عرب کے دوسری جانب واقع آبنائے ہرمز کے مقابل ایک اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔

آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہاز بحیرہ احمر کے ذریعے نہر سویز اور پھر یورپ کی جانب جانے والے اہم راستے سے منسلک ہوتے ہیں۔

اس علاقے میں ماضی میں بھی حوثیوں کی جانب سے تجارتی اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جس کے باعث بین الاقوامی جہاز رانی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق باب المندب میں کسی بھی نئے حملے سے نہ صرف بحری جہازوں کی سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ عالمی تجارت اور خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی بھی مزید متاثر ہوسکتی ہے۔

Related posts