خیبرپختونخوا کابینہ نے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 منظور کرلیا
خیبرپختونخوا کابینہ نے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 منظور کر لیا ہے، کابینہ اجلاس میں پولیس کے مجوزہ ایکٹ کی بعض شقوں پر کابینہ ارکان نے شدید اعتراضات کیے جب کہ مجوزہ ایکٹ کی بعض شقوں میں ترمیم اور بعض شقیں ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
بدھ کے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 منظور کرلیا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں پولیس کے مجوزہ ایکٹ کی بعض شقوں پر ارکان نے شدید اعتراضات کیے، جس کے بعد مجوزہ ایکٹ کی بعض شقوں میں ترمیم اور کچھ شقیں ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس ایکٹ کے حوالے سے کمیٹی کے اجلاسوں میں پولیس کے اعلیٰ حکام بھی مجوزہ قانون کی بعض شقوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔
کابینہ ارکان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا وژن تھا کہ پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھا جائے۔
ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں پولیس ایکٹ کی مختلف شقوں پر غور کیا گیا اور ارکان کی جانب سے سامنے آنے والے اعتراضات کی روشنی میں ترامیم اور بعض شقیں ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس سے قبل خیبرپختونخوا کے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 میں پولیس کمانڈ، اعلیٰ افسران کی تعیناتی و تبادلوں اور پالیسی سازی سے متعلق اہم تبدیلیاں تجویز کی گئیں۔
مجوزہ ایکٹ کے تحت آئی جی خیبرپختونخوا کی تعیناتی کا اعلامیہ صوبائی حکومت جاری کرے گی، مجوزہ قانون کے مطابق آئی جی کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے پولیس افسران کے نام صوبائی حکومت کو بھیجے جائیں گے۔
صوبائی حکومت آئی جی کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہونے کی صورت میں ان کے تبادلے کے لیے وفاق سے مزید نام طلب کرسکے گی جب کہ آئی جی کی غیر موجودگی میں ایڈیشنل آئی جی ہیڈ کوارٹر بطور آئی جی چارج سنبھالیں گے۔
مجوزہ ایکٹ میں اعلیٰ پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں کے طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ ڈی ایس پیز اور اے ایس پیز کے تبادلے ہوم سیکریٹری کریں گے جب کہ ایس پی، ایس ایس پی اور ایڈیشنل آئی جی کے تبادلے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کریں گے۔
ایس پی، ایس ایس پی اور ایڈیشنل آئی جی کی تعیناتی کا اعلامیہ محکمہ انتظامیہ جاری کرے گا جب کہ آر پی اوز اور ڈی پی اوز کی تعیناتی اور تبادلوں میں بھی وزیراعلیٰ کا کردار تجویز کیا گیا ہے۔
مجوزہ قانون میں محکمہ پولیس کی تمام پوسٹنگز اور تبادلوں کا اختیار بھی صوبائی حکومت کو دینے کی تجویز ہے۔ پولیس پالیسی بورڈ کی سربراہی بھی آئی جی سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ موجودہ قانون کے تحت پولیس پالیسی بورڈ کے سربراہ صوبائی پولیس افسر ہیں۔
مجوزہ ایکٹ کے مطابق پولیس کی تمام آپریشنل، انتظامی اور مالی پالیسیاں بنانے کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس ہوگا جب کہ انتظامی امور سے متعلق تمام پالیسیاں صوبائی حکومت کے احکامات کے تابع ہوں گی۔
قانونی معاملات سے متعلق بھی طریقہ کار میں تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔ مجوزہ ایکٹ کے تحت کسی بھی قانونی معاملے میں پولیس اپنا جواب براہ راست جمع نہیں کرے گی بلکہ محکمہ قانون اور ایڈووکیٹ جنرل آفس سے منظور شدہ جواب جمع کرایا جائے گا۔
مجوزہ قانون میں پولیس کے انتظامی، آپریشنل اور مالی امور سے متعلق اختیارات میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پولیس کے بعض مالی معاملات محکمہ پولیس سے لے کر صوبائی حکومت یا محکمہ داخلہ کے ماتحت کرنے کی تجاویز بھی مسودے کا حصہ ہیں۔
دوسری جانب مجوزہ پولیس ایکٹ پر بعض سینئر پولیس افسران نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پولیس افسران کو خدشہ ہے کہ اختیارات کی منتقلی سے پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری متاثر ہوسکتی ہے۔ آئی جی خیبرپختونخوا کی جانب سے بھی مجوزہ ترامیم پر تحفظات سے متعلق حکام کو آگاہ کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت پولیس نظام میں چیک اینڈ بیلنس بہتر بنانا چاہتی ہے، پولیس کے اختیارات کم نہیں کیے جارہے بلکہ نظام کو مزید مؤثر اور بہتر بنایا جارہا ہے۔
وزیر قانون کے مطابق پولیسنگ صوبائی معاملہ ہے اور حکومت پولیس نظام میں بہتری کے لیے اقدامات کررہی ہے۔
مجوزہ ترامیم کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کے سابقہ فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق عدالت پہلے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کی پوسٹنگ اور تبادلوں سے متعلق بعض ترامیم کو کالعدم قرار دے کر متعلقہ اختیارات آئی جی کو واپس کرچکی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پولیس ایکٹ میں ترامیم کا ابتدائی مسودہ تیار کیا گیا ہے، جس میں پولیس کے انتظامی ڈھانچے، اعلیٰ افسران کی تعیناتی و تبادلوں، پولیس پالیسی بورڈ اور پالیسی سازی سمیت مختلف امور میں تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔