مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود پہلے سیکریٹری جنرل مقرر
پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ وہ ریاض میں قائم ہونے والے جنرل سیکریٹریٹ کی سربراہی کریں گے۔
پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو اتحاد کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم کیے جانے والے اتحاد کے جنرل سیکریٹریٹ کی سربراہی کریں گے، جب کہ اس معاہدے کا سیکریٹریٹ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں قائم کیا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود پاک فوج کے ریٹائرڈ افسر ہیں اور بلوچ رجمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہیں اپریل 2019 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی، جس کے بعد دسمبر 2019 میں پشاور کور کا کمانڈر مقرر کیا گیا۔
نعمان محمود نے 23 نومبر 2021 تک پشاور کور کے کمانڈر کی حیثیت سے فرائض انجام دیے، جس کے بعد نومبر 2021 سے اپریل 2023 تک نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے 35ویں صدر رہے۔
ان کی دیگر تعیناتیوں میں انفینٹری رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر اور کور کے چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دینا شامل ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی سے قبل انہوں نے میجر جنرل کے طور پر شمالی وزیرستان میں انفینٹری ڈویژن کی کمانڈ بھی کی۔ اس کے علاوہ وہ انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) میں ڈائریکٹر جنرل (اینالیسس) کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آئی جی کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے طور پر بھی تعینات کیا گیا تھا۔
نعمان محمود کا تعلق راولپنڈی سے ہے اور انہوں نے 11 ستمبر 1987 کو پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔ انہوں نے پاکستان کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج مصر اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویشن کیا ہے۔
مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں دستخط کیے تھے۔ معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع، سلامتی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے میں یہ شق بھی شامل ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جب کہ معاہدے کے تحت دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ نے معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور اس کا مقصد بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
مکہ معاہدے کے تحت قائم ہونے والا جنرل سیکریٹریٹ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اور مشترکہ امور کے لیے مرکزی رابطہ اور انتظامی ڈھانچے کے طور پر کام کرے گا۔ اس کا قیام سعودی دارالحکومت ریاض میں عمل میں لایا جا رہا ہے۔