پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کی اہم شاہراہیں سیل، تعلیمی ادارے بند

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو ممکنہ لانگ مارچ کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کو ملانے والی تمام اہم شاہراہوں اور موٹرویز کو سخت سیکیورٹی تدابیر کے تحت بند کر دیا گیا ہے۔

موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق ایم ون، ایم چودہ، ہزارہ موٹروے اور جی ٹی روڈ کو رات گیارہ بجے سے تاحکمِ ثانی ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق ایم ون اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک جبکہ ایم چودہ ہکلہ سے کنڈل تک بند رہے گی۔

اس کے علاوہ جی ٹی روڈ کو اٹک خورد، ای تھرٹی فائیو ہزارہ موٹروے کو ہزارہ انٹرلنک، راولپنڈی کوہاٹ روڈ کو خوشحال گڑھ اور ایبٹ آباد حسن ابدال روڈ کو جھاری کس چیک پوسٹ سے ٹریفک کے لیے مکمل طور پر مسدود کر دیا گیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور سیاسی پیش قدمی کو روکنے کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

شہر کی مختلف شاہراہوں اور حساس مقامات پر تقریباً بارہ سو کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں جن کی مدد سے ریڈ زون کو چاروں اطراف سے سیل کر دیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں بعض مقامات پر کنٹینرز کی دہری تہہ لگا دی گئی ہے اور فی الحال ریڈ زون کے پانچ میں سے دو داخلی راستے مکمل بند ہیں۔

ترنول، سنگجانی، شاہراہِ ایران، چھبیس نمبر چنگی، سری نگر ہائی وے، ٹی چوک روات اور فیض آباد پر کنٹینرز لگا کر ناکہ بندی کر دی گئی ہے جبکہ بہارہ کہو کے مقام پر کشمیر سے آنے والے راستے کو بھی روکنے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں امن و امان کے قیام کے لیے مجموعی طور پر بائیس ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق شہر کی سیکیورٹی کی نگرانی کے لیے آٹھ ڈی آئی جیز اور دس ایس ایس پیز کو تعینات کیا گیا ہے، جبکہ ان کی معاونت کے لیے چالیس ایس پیز، اٹھاون ڈی ایس پیز اور دو سو چھیاسٹھ انسپکٹرز مختلف سب سیکٹرز میں ڈیوٹی پر مامور ہیں۔

اسلام آباد پولیس کے علاوہ پنجاب اور سندھ سے بھی تیرہ ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کی نفری طلب کی گئی ہے جبکہ ایف سی اور رینجرز کے اہلکار بھی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

ان سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کے لیے شہر کے تعلیمی اداروں کو استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں بھی معطل ہیں۔

شہر کی نگرانی کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرتے ہوئے پندرہ ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے جبکہ ڈرون کیمروں کے ذریعے فضائی نگرانی کا عمل بھی جاری ہے۔

سیکیورٹی اہلکار شہر کے ریستورانوں، ہوٹلوں اور سرائے خانوں کی مسلسل چھان بین کر رہے ہیں اور داخلی راستوں پر چیکنگ کا نظام انتہائی سخت کر دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان تمام اقدامات کا مقصد شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانا اور دارالحکومت میں کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے یا امن و امان کے نقائص سے بچنا ہے۔

Related posts