دبئی کے رہائشی کرایوں میں اضافہ اور مالکان سے تنازع: کرایہ داروں کو کیا کرنا چاہیے؟

دبئی میں کرایے میں اضافے کو لے کر مالک مکان اور کرایہ دار کے درمیان اختلاف کوئی غیر معمولی صورتِ حال نہیں، لیکن مسئلہ اس وقت زیادہ پیچیدہ ہوجاتا ہے جب مالک مکان کرایہ دار کی جانب سے پیش کی گئی رقم وصول کرنے سے انکار کردے۔ ایسی صورت میں کرایہ دار کے لیے یہ خدشہ پیدا ہوسکتا ہے کہ کہیں بعد میں اسے کرایہ ادا نہ کرنے کا ذمہ دار نہ ٹھہرا دیا جائے۔

گلف نیوز کے مطابق، ایسی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے دبئی رینٹل ڈسپیوٹ سینٹر (آر ڈی سی) کرایے دار کو ’آفر اینڈ ڈپازٹ‘ کا قانونی طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے کرایہ دار مقررہ طریقہ کار کے تحت اپنی جانب سے پیش کیا گیا کرایہ باضابطہ طور پر جمع کراسکتا ہے، جبکہ بعض حالات میں پراپرٹی کی چابیاں بھی اسی طریقے سے پیش کی جاسکتی ہیں۔

قانونی ماہر ڈاکٹر حسن الحیس کے مطابق ’آفر اینڈ ڈپازٹ‘ کا مقصد مالک مکان کو کرایہ یا چابیاں باضابطہ طور پر پیش کرنے کے لیے عدالتی حکم حاصل کرنا ہے۔ یہ طریقہ کار خاص طور پر اس وقت کارآمد ہوسکتا ہے جب مالک کرایہ وصول کرنے سے انکار کرے، کرایہ داری کی تجدید پر اختلاف ہو یا پراپرٹی خالی کرتے وقت مالک چابیاں لینے سے انکار کردے۔

تاہم، کرایہ داروں کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ’آفر اینڈ ڈپازٹ‘ بنیادی کرایہ داری تنازع کا حتمی فیصلہ نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر سابقہ کرایہ آر ڈی سی میں جمع کرانے سے یہ خود بخود ثابت نہیں ہوتا کہ مالک مکان کی جانب سے تجویز کردہ کرایے میں اضافہ غیر قانونی ہے، اور نہ ہی اس سے کرایہ دار کو اپنی پسند کی شرائط پر معاہدہ تجدید کرانے کی ضمانت ملتی ہے۔

اگر کرایہ دار اس طریقہ کار سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو وہ آر ڈی سی کی ویب سائٹ یا ریئل اسٹیٹ سروسز ٹرسٹی سینٹر کے ذریعے درخواست دے سکتا ہے۔ آن لائن درخواست کے لیے اکاؤنٹ بنانا اور اپنی ذاتی معلومات کے ساتھ ’ایجاری‘ سے متعلق تفصیلات فراہم کرنا ضروری ہوتی ہیں۔

 (آر ڈی سی بلڈنگ دبئی)
(آر ڈی سی بلڈنگ دبئی)

درخواست کے لیے ’آفر اینڈ ڈپازٹ‘ کی تحریری درخواست، ایمریٹس آئی ڈی، تازہ دستخط شدہ کرایہ داری معاہدہ، اور جہاں ضروری ہو اسی شرائط پر مجوزہ تجدیدی معاہدہ جمع کرانا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چیکس کی نقول اور مالک مکان کے ساتھ ہونے والی متعلقہ خط و کتابت بھی درکار ہوسکتی ہے۔ کمپنی کی جانب سے درخواست دینے کی صورت میں موجودہ تجارتی لائسنس اور نامزد مینیجر کی ایمریٹس آئی ڈی بھی فراہم کرنا ہوتی ہے۔ دستاویزات عربی میں ہونی چاہئیں یا ان کے ساتھ قانونی ترجمہ شامل ہونا چاہیے۔

قانونی ماہرین کرایہ داروں کو یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ وہ کرایہ ادا کرنے کی اپنی کوشش کا ثبوت محفوظ رکھیں۔ ای میلز، پیغامات، نوٹس یا دیگر تحریری رابطے اس بات کو ظاہر کرنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ کرایہ کب پیش کیا گیا اور مالک مکان نے کیا جواب دیا۔ تحریری ریکارڈ اس لیے اہم ہے کیونکہ صرف زبانی گفتگو کو بعد میں ثابت کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

اس سروس کی فیس 50 درہم ہے، جبکہ 10 درہم نالج فیس اور 10 درہم انوویشن فیس بھی ادا کرنا ہوتی ہے۔ اگر درخواست ریئل اسٹیٹ سروسز ٹرسٹی سینٹر کے ذریعے جمع کرائی جائے تو پارٹنر کی سروس فیس کے علاوہ 130 درہم اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس بھی لاگو ہوتا ہے۔

درخواست جمع ہونے کے بعد اس کی خودکار منظوری نہیں ہوتی بلکہ جج درخواست کا جائزہ لیتا ہے اور فیصلہ آن لائن دستیاب ہوتا ہے۔ منظوری کی صورت میں درخواست گزار کو عدالتی حکم کے مطابق کرایہ جمع کرانے یا دیگر ضروری کارروائی مکمل کرنا ہوتی ہے۔

آر ڈی سی مالک مکان کو اپنی عدالتی اطلاع کے طریقہ کار کے تحت باضابطہ طور پر مطلع کرتا ہے۔ اس لیے کرایہ دار کو مالک مکان کے درست رابطے کی تفصیلات فراہم کرنی چاہئیں اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ باضابطہ اطلاع کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔ صرف واٹس ایپ پیغام یا ذاتی ای میل بھیج دینا آر ڈی سی کی اطلاع کا متبادل نہیں سمجھا جاتا۔

اگر درخواست منظور ہوجائے اور آر ڈی سی کرایہ قبول کرلے تو رقم آر ڈی سی کے خزانے میں مالک مکان کے لیے رکھی جاتی ہے، جہاں سے مالک مقررہ طریقہ کار کے تحت اسے وصول کرسکتا ہے۔ یہ رقم خود کرایہ ہوتی ہے، درخواست کی فیس یا سیکیورٹی ڈپازٹ نہیں۔

طریقہ کار مکمل ہونے اور جج کی جانب سے درخواست قبول کیے جانے کے بعد جمع کرایا گیا کرایہ متعلقہ مدت کے لیے کرایہ دار کی ادائیگی شمار ہوسکتا ہے۔ تاہم، صرف درخواست دائر کرنا کافی نہیں؛ کرایہ دار کو عدالتی حکم کے مطابق رقم بروقت جمع کرانا اور اس کا ثبوت محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

اگر مالک مکان اور کرایہ دار کے درمیان بنیادی اختلاف برقرار رہتا ہے تو دونوں میں سے کوئی بھی فریق آر ڈی سی کے ذریعے مصالحت یا متعلقہ کرایہ داری دعویٰ دائر کرسکتا ہے۔ اس دوران کرایہ دار کی کرایہ ادا کرنے کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔ زیرِ سماعت تنازع کو کرایہ ادا کرنے سے عارضی چھوٹ نہیں سمجھا جاتا، اس لیے مقررہ تاریخوں پر کرایہ داری کی مالی ذمہ داریاں پوری کرنا ضروری ہے۔

Related posts