سانحہ پمز: وزیراعظم کا غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو رعایت نہ دینے کا حکم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سانحہ پمز میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، وزیرصحت اور سیکریٹری اپنی نگرانی میں اسپتال کی بہتری کے لیے اقدامات کریں۔
بدھ کے روز وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کرغستان سے وطن واپس پہنچتے ہی وزرات صحت کے امور اور پمز آتشزدگی واقعے کے حوالے سے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفی کمال، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، سیکریٹری ہیلتھ کپٹن (ر) محمد محمود اور پمز اسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر ڈاکٹر محمد سلمان شریک تھے۔
اجلاس میں وزیرِ اعظم کو شعبہ صحت کے حوالے سے بریفنگ جب کہ پمز آتشزدگی واقعے کے حوالے سے جاری تحقیقات پر خصوصی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ عبوری تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں وزیرِ اعظم کے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جارہا ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے وزیرِ صحت اور سیکریٹری صحت کو ہدایت کی کہ وہ دونوں متبادل دنوں میں پمز اسپتال میں اپنی ذاتی موجودگی کو یقینی بنائیں اور اپنی نگرانی میں اسپتال کی بہتری کے لیے اقدامات پر عملدرآمد کروائیں۔
وزیراعظم نے پمز اسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات کی بہتری اور تمام تر حفاظی اقدامات کا اطلاق یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ شعبہ صحت میں اصلاحات کے عمل کو تیز کیا جائے۔
واضح رہے کہ 26 اگست 2026 کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری میں آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے تھے جب کہ ایک بچہ زندہ بچایا گیا تھا۔
واقعے کے بعد آگ لگنے کی وجہ اور اسپتال کے حفاظتی انتظامات سے متعلق مختلف سوالات اٹھے، ابتدائی طور پر ایئرکنڈیشننگ یونٹ میں دھماکے کو آگ کی وجہ بتایا گیا جب کہ پمز کی ابتدائی رپورٹ میں نیبولائزر سے متعلق دھماکے اور نرسری میں زیادہ آکسیجن کے باعث آگ تیزی سے پھیلنے کا ذکر سامنے آیا۔