سیاسی جماعتوں کا احتجاج: اسلام آباد آنے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی اور خندقیں کھودنے کا فیصلہ
وفاقی دارالحکومت میں مختلف سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے پیش نظر وفاقی حکومت نے اسلام آباد آنے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے اور بعض مقامات پر خندقیں کھودنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری طرف پیٹرولیم لیوی کے خلاف حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی کا ’لانگ مارچ‘ کراچی سے بذریعہ ٹرین اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگیا ہے جب کہ پی ٹی آئی نے بھی 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد کو مختلف سیاسی جماعتوں کے احتجاج کا سامنا ہے، جہاں ممکنہ احتجاجی قافلوں کی آمد کے پیش نظر وفاقی انتظامیہ نے خیبرپختونخوا سے وفاق آنے والے راستوں کا سروے مکمل کرلیا ہے جب کہ خیبرپختونخوا سے اسلام آباد آنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔
وفاقی پولیس نے خیبرپختونخوا سے اسلام آباد آنے والی شاہراہوں پر خندقیں کھودنے کا فیصلہ کیا ہے، موٹروے اور جی ٹی روڈ پر احتجاجی قافلوں کو روکنے کے لیے خندقیں کھودی جائیں گی جب کہ 26 نمبر چونگی اور مارگلہ ٹیکسلا کے قریب بھی خندقیں کھودنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسی کے ساتھ خیبرپختونخوا سے وفاقی دارالحکومت آنے والے دیگر راستوں پر بھی رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی جب کہ اسلام آباد کی اہم شاہراہوں پر رکھے کنٹینرز میں مٹی کی بوریاں بھرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔
ریڈ زون کے گرد رکھے کنٹینرز میں مٹی سے بھری بوریاں ڈالی جائیں گی، گاڑیوں کی آمدروفت روکنے کے لیے بھی مٹی کی بوریاں رکھی جائیں گی، بوریوں میں مٹی بھرنے کے لیے درجنوں مزدوروں کو کام پر لگا دیا گیا جب کہ بوریاں بھرنے کے لیے مٹی کی ٹرالیاں ریڈ زون میں بھی منگوائی جارہی ہیں۔ یہ اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسلام آباد میں مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔
کوئی بھی پر تشدد جتھہ اسلام آباد نہیں آئے گا، عطا تارڑ
ادھر دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی پر تشدد جتھہ اسلام آباد نہیں آئے گا، راستے کھلے رہیں گے، انہیں پہنچنے نہیں دیا جائے گا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ سڑکیں بند کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا آرڈر آگیا ہے اب حکومت کی ذمہ داری ہے کوئی سڑک بند نہ ہو، عدالتی فیصلوں کی روشنی میں عوام کی زندگی میں خلل نہیں ڈالنے دیں گے۔ جماعت اسلامی کے لوگ سمجھدار اور پر امن لوگ ہیں لیکن قانون سب کے لئے یکساں ہے۔
جماعت اسلامی کا ’لانگ مارچ‘ اسلام آباد کے لیے روانہ
دوسری جانب پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا ’لانگ مارچ‘ کراچی سے بذریعہ ٹرین اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگیا، لانگ مارچ بذریعہ ٹرین رحمان بابا ایکسپریس حافظ نعیم الرحمان اور منعم ظفر خان کی قیادت میں کراچی کینٹ اسٹیشن سے روانہ ہوا۔
جماعت اسلامی کی جانب سے کراچی سے شروع کیا جانے والا بذریعہ ٹرین لانگ مارچ حیدرآباد پہنچا تو جماعت اسلامی کے کارکنان نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر شاندار استقبال کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔
ریلوے اسٹیشن پر استقبال کے لیے آنے والے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے تحریک چلارہی ہے، ہمارا کوئی ذاتی یا پارٹی کا ایجنڈا نہیں ہے، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کردیا ہے کہ غریب عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے، پیٹرول کے فی لیٹر پر 135 روپے لیوی ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں حالات بہتر ہوں تو پیٹرول 200 روپے سے نیچے آجائے گا، لیوی کا پیٹرول کی عالمی قیمتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ حکومت کے لگائے گئے غیرقانونی ٹیکس ہے جو غریب عوام کا خون نچوڑ کر وصول کیا جارہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکمران امیروں کو مراعات دیتے اور متوسط اور غریب افراد کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں یہ حکمران مافیا بن چکے ہیں، معیشت کی خرابی کا تعلق عوام سے نہیں حکمرانوں کی عیاشیوں سے ہے ہم عوام کی ترجمانی کررہے ہیں، ہمارا ٹرین مارچ اسلام آباد پہنچے گا، ہم نے ان سے کہا ہے کہ اس سے پہلے یہ لیوی ٹیکس واپس لیں۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ملک کے غریب عوام سے لیوی ٹیکس کے نام پر بھتہ وصول کرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم ہم سے بات کرنے آتی ہے لیکن ان کے پاس عوام کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
قبل ازیں جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف 35 روز سے کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا دے رکھا تھا جو ہفتے کو ختم کر دیا گیا۔
ادھر 14 ستمبرکو اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا دیگر عوامی مقامات پر قبضے اور شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کا اختیار نہیں۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو اسلام آباد کے انٹرچینجز اور ٹول پلازوں پر قبضے کا اختیار نہیں جب کہ مارچ، جلوس یا ریلی کے ذریعے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر نہیں کی جاسکتی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد سمیت متعلقہ حکام کو عدالتی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی تھی۔
دریں اثنا اسلام آباد میں ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت کے اہم داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی اور انتظامات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جب کہ ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا سے آنے والے راستوں پر رکاوٹوں اور خندقوں کے منصوبے پر بھی کام کیا جارہا ہے۔
اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں میں ہائی الرٹ
علاوہ ازیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ممکنہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے سرکاری اسپتالوں میں ہنگامی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، پمز اور پولی کلینک اسپتالوں میں 30 ستمبر تک ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے جب کہ دونوں اسپتالوں میں ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈکس اور دیگر ضروری عملے کی 24 گھنٹے دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اور پولی کلینک اسپتالوں میں ہائی الرٹ کے حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے سرکلرز جاری کردیے گئے ہیں جب کہ میڈیکل اور نان میڈیکل شعبوں کے سربراہان کی چھٹیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
سرکلرز کے مطابق دونوں اسپتالوں کے میڈیکل اور نان میڈیکل شعبوں کے سربراہان کو ہنگامی صورت حال کی صورت میں فوری دستیابی یقینی بنانے اور ضروری عملے کو 24 گھنٹے تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ہائی الرٹ کے دوران ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس اور معاون عملے کی دستیابی یقینی بنانے کے ساتھ ڈیوٹی روسٹرز کو مسلسل اپ ڈیٹ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ طبی رخصت کے سوا عملے کی تمام چھٹیاں محدود کردی گئی ہیں۔
پمز اسپتال میں ایمرجنسی، آئی سی یو، ٹراما سینٹر، آپریشن تھیٹر، نرسنگ اور ڈائیگناسٹک سروسز کو مکمل فعال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ بلڈ بینک اور فارمیسی سروسز بھی بلا تعطل فعال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
سرکلر کے مطابق ہنگامی صورتحال یا بڑی تعداد میں مریضوں کی آمد کی صورت میں اضافی بیڈز، اسٹریچرز اور وہیل چیئرز دستیاب رکھی جائیں گی جب کہ آکسیجن، خون، ادویات، ضروری طبی آلات اور دیگر سامان کا وافر اسٹاک یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پمز ایمرجنسی کے لیے 20 مخصوص بیڈز دستیاب رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام ایمبولینسز کو 24 گھنٹے تیار رکھنے اور ایمرجنسی و ایمبولینس کے راستے ہر وقت کلیئر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ڈائریکٹر ایمرجنسی پمز ڈاکٹر شرجیل ظہیر کو ہنگامی صورت حال کے لیے فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔ نیورو سرجری، آرتھوپیڈک، جنرل سرجری اور اورل اینڈ میکسیلو فیشل سرجری سمیت متعلقہ شعبوں کے زیادہ سے زیادہ عملے کو آن کال رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
پمز انتظامیہ نے ایمرجنسی، مرکزی داخلی راستوں اور دیگر حساس مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت رکھنے کا حکم دیا ہے۔
دوسری جانب پولی کلینک اسپتال میں بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے خصوصی ڈیوٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس اور دیگر ضروری عملے کو دستیاب رہنے اور شہر سے باہر نہ جانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
پولی کلینک کے ڈاکٹر تنویر ملک کو ہنگامی صورت حال کے لیے فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے جب کہ متعلقہ افسران کو ضروری انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پولی کلینک کے بلڈ بینک میں کم از کم 100 بیگز خون کا ذخیرہ رکھنے، ادویات اور دیگر ضروری طبی سامان وافر مقدار میں دستیاب رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسپتال کی تمام ایمبولینسز اور ڈرائیورز کو بھی ہر وقت تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پولی کلینک کی ایمرجنسی میں مردوں اور خواتین کے لیے مجموعی طور پر 20 بیڈز مختص رکھنے جبکہ آکسیجن گیس کا وافر ذخیرہ یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہنگامی صورت حال کی صورت میں استعمال کے لیے پولی کلینک آفیسر وارڈ میں دو کمرے بھی مختص کیے گئے ہیں۔
دونوں اسپتالوں کی انتظامیہ نے تمام متعلقہ افسران اور عملے کو ہنگامی صورت حال میں فوری دستیابی اور بروقت ردعمل یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
سرکلرز کے مطابق پمز اور پولی کلینک میں ہائی الرٹ 30 ستمبر 2026 تک برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔