قیدیوں کی تبادلے میں تعاون اور دفاعی تعلقات: وزیراعظم کا دورہ کرغزستان مکمل
وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ کرغزستان مکمل ہو گیا ہے، جس کے اختتام پر کرغزستان کے صدر نے خود گاڑی چلا کر پاکستانی وزیراعظم کو ایئرپورٹ پہنچایا اور الوداع کیا۔
روانگی سے قبل ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ دورے کے دوران کرغز قیادت کے ساتھ انتہائی مثبت ملاقاتیں ہوئیں اور دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے پر کامل اتفاق رائے ہوا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے باہمی تجارت کو موجودہ سولہ ملین ڈالر کے محدود حجم سے بڑھانے کی تجویز پیش کی تھی جس سے کرغز صدر نے مکمل اتفاق کیا اور اب دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو دو سو ملین یعنی بیس کروڑ ڈالر تک لے جانے کے تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس پر میں کرغزستان کی قیادت کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔
دورے کے اختتام پر پاکستان اور کرغزستان کی جانب سے ایک جامع مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے جس میں دوطرفہ تجارتی حجم کو بیس کروڑ ڈالر تک پہنچانے کے لیے ایک منظم اور جامع پلان تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، توانائی، کان کنی، زراعت، خوراک، ٹیکسٹائل اور ادویہ سازی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
اس کے علاوہ ورچوئل اثاثوں کے جدید شعبے میں تعاون کی مفاہمتی یادداشت کے ساتھ ساتھ ٹرانزٹ تجارت کے اہم معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے ہیں، جس کے تحت پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے کرغزستان کے لیے تجارتی اور ترسیل کے مواقع بڑھائے جائیں گے۔
مشترکہ اعلامیے میں بجلی، پن بجلی، قابلِ تجدید توانائی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور طبی تعلیم کے شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دستخط کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
قانونی اور سیکیورٹی معاملات کے حوالے سے دونوں ممالک نے قیدیوں کی تبادلے اور فوجداری مقدمات میں باہمی قانونی معاونت کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جبکہ دفاعی شعبے میں تعلقات اور متعلقہ اداروں کے روابط کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ لاہور اور اوش کے شہروں کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات کے قیام کا معاہدہ بھی عمل میں لایا گیا ہے۔
اعلامیے میں عالمی اور علاقائی امور پر بات کرتے ہوئے دونوں ممالک نے عالمی تنازعات کے پرامن حل اور کسی بھی قسم کے یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنے پر زور دیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی پاکستان نے کرغزستان کے عالمی ماحولیاتی اور پہاڑی خطوں کی ترقی کے ایجنڈے کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے۔
اس دورے کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے معاشی اور سفارتی تعلقات میں ایک نیا اور مضبوط باب شامل ہوگا جس سے عام شہریوں اور کاروباری طبقے کو براہِ راست فائدے حاصل ہوں گے۔