مشکوک انجری اور ڈسپلن ایشوز: امام الحق پر پابندی کی تلوار لٹکنے لگی
پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپنر امام الحق کی مشکوک انجری کے خلاف ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے، جس میں انجری اور ڈسپلن کے معاملے پر ٹیسٹ اوپنر پر پابندی کا امکان ہے جب کہ وہ آئندہ ہفتے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنا جواب جمع کرائیں گے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ کے دوران امام الحق بائیں پنڈلی کی انجری کا شکار ہوئے تھے، جس کے باعث وہ میچ کی دونوں اننگز میں بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں اترے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس وقت بتایا تھا کہ امام الحق کو فیلڈنگ کے دوران بائیں پنڈلی میں کم درجے کی انجری ہوئی، جس کے اسکین میں لو گریڈ کاف اسٹرین کی تصدیق ہوئی تھی۔ امام الحق کو طبی ٹیم کی نگرانی میں علاج فراہم کیا گیا تاہم وہ بیٹنگ کے لیے دستیاب نہیں ہوئے۔
ذرائع کے مطابق اب تیار کی گئی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ کے دوران امام الحق انجری کے باوجود بیٹنگ کے لیے جاسکتے تھے تاہم وہ بیٹنگ کے لیے نہیں گئے تاہم امام الحق گراؤنڈ میں آکر بیٹنگ پریکٹس کیوں کرتے رہے۔
ابتدائی رپورٹ میں امام الحق کی پرانی انجری کا ذکر بھی کیا گیا ہے تاہم انجری اور ڈسپلن کے معاملے پر ان پر پابندی کا امکان ہے۔ ٹیسٹ اوپنر کے خلاف ممکنہ کارروائی کا معاملہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے شروع کی گئی تحقیقات کا حصہ ہے۔
ذرائع نے اس سے قبل بتایا تھا کہ بورڈ امام الحق کی لارڈز ٹیسٹ کی انجری کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرانے پر غور کر رہا ہے جب کہ سابقہ معاملے کی بھی دوبارہ جانچ کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق امام الحق کے معاملے میں ماضی کی انجری بھی زیرِ بحث آئی۔ مارچ 2025 میں نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران دائیں پاؤں کے انگوٹھے پر گیند لگنے کے بعد امام الحق کی انجری کے معاملے کی تحقیقات ہوئی تھیں۔
اس وقت کی انکوائری کمیٹی نے مبینہ طور پر قرار دیا تھا کہ امام نے اپنی علامات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور میڈیکل اسٹاف کو گمراہ کیا جب کہ ان کے خلاف پاکستان کی نمائندگی سے پابندی کی سفارش بھی کی گئی تھی تاہم سابق کرکٹرز اور حکام نے معاملے کو رفع دفع کیا تھا۔
امام الحق نے دورۂ انگلینڈ کے پہلے ٹیسٹ میں ہیڈنگلے کے مقام پر انگلینڈ کے خلاف پہلی اننگز میں 42 رنز بنائے تھے۔ انہوں نے 74 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 6 چوکے لگائے تاہم دوسری اننگز میں وہ بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔
ہیڈنگلے ٹیسٹ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس میچ میں امام الحق اور عبداللہ شفیق نے تیسری وکٹ کے لیے 91 رنز کی شراکت قائم کی تھی تاہم پاکستانی ٹیم پہلی اننگز میں 171 اور دوسری اننگز میں 135 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
اس کے بعد لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کے دوران امام الحق فیلڈنگ کرتے ہوئے پنڈلی کی انجری کا شکار ہوگئے تھے، وہ پہلی اننگز میں پاکستان کے 110 رنز پر آؤٹ ہونے کے دوران بیٹنگ کے لیے نہیں آئے اور دوسری اننگز میں بھی 389 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ نہیں کی۔ پاکستان یہ ٹیسٹ 194 رنز سے ہار گیا اور انگلینڈ نے تین میچوں کی سیریز میں 2-0 کی ناقابل شکست برتری حاصل کرلی۔
لارڈز ٹیسٹ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے امام الحق سمیت 7 کھلاڑیوں کو تیسرے ٹیسٹ کے اسکواڈ سے ریلیز کردیا تھا اور انہیں پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔ بورڈ نے اس دوران کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلیاں کیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ معاملے میں امام الحق آئندہ ہفتے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنا تحریری جواب جمع کرائیں گے، جس کے بعد ان کے خلاف مزید کارروائی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا جب کہ ٹیسٹ اوپنر کے خلاف این سی سی آئی اے میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ انگلینڈ کے دورے میں پاکستان کو پہلے دو ٹیسٹ میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ تیسرے ٹیسٹ کے لیے اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں۔ بعد ازاں انگلینڈ نے ایجبسٹن میں تیسرا ٹیسٹ بھی جیت کر پاکستان کو پہلی بار 3 میچوں کی ہوم سیریز میں 0-3 سے وائٹ واش کردیا۔