میر رضا کیس: تفتیشی ٹیم کا مقتول کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات کے لیے عدالت سے رجوع

میر رضا قتل کیس کے سلسلے میں تفتیشی ٹیم نے مقتول کے بینک اکاؤنٹس اور مالی لین دین کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا۔

ذرائع کے مطابق میر رضا کے بینک ٹرانزیکشنز کے حصول سے متعلق درخواست پر عدالت نے اسٹیٹ بینک سے یکم اکتوبر تک جواب طلب کرلیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی حکام سے استفسار کیا کہ آپ میر رضا کی بینک ٹرانزیکشنز کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

تفتیشی حکام نے عدالت کو بتایا کہ میر رضا کے مالی لین دین کی تفتیش کی جارہی ہے اور یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ رقم کس کے ساتھ اور کن لوگوں کے درمیان منتقل ہوتی رہی۔

تفتیشی حکام نے بتایا کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ میر رضا کے کس بینک میں اکاؤنٹس موجود تھے، اسی لیے اکاؤنٹس اور ٹرانزیکشنز کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک سے رابطہ کیا گیا۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک حکام کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم کی صورت میں ہی وہ کارروائی کرسکتے ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ بینک سے براہِ راست ٹرانزیکشن رپورٹ حاصل کی جاسکتی ہے۔ سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیشی ٹیم میر رضا کے بینک اکاؤنٹس اور ان میں ہونے والی ٹرانزیکشنز کی مکمل تفصیلات حاصل کرنا چاہتی ہے۔

تفتیشی حکام کے مطابق صرف یہ معلوم کرنا مقصود ہے کہ میر رضا کے کتنے بینک اکاؤنٹس تھے اور ان اکاؤنٹس سے کہاں کہاں مالی لین دین ہوا۔ حکام کا کہنا تھا کہ ممکن ہے بینک اکاؤنٹس اور ٹرانزیکشنز کی تفصیلات قتل کیس کی تفتیش میں معاون ثابت ہوں۔

عدالت نے معاملے پر اسٹیٹ بینک سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت یکم اکتوبر تک ملتوی کردی۔

Related posts