نئے انتخابات تک میئر و ڈپٹی میئر بطور ایڈمنسٹریٹر کام کریں گے، سندھ اسمبلی میں بلدیاتی بل منظور
سندھ اسمبلی نے بلدیاتی قوانین میں ترامیم کے لیے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026 منظور کرلیا ہے جب کہ نئے بلدیاتی انتخابات تک موجودہ میئر، ڈپٹی میئر اور چیئرمین بطور ایڈمنسٹریٹر کام جاری رکھیں گے۔ دوسری طرف اپوزیشن نے بل پر احتجاج کرتے ہوئے اسے کالا قانون قرار دے دیا۔
پیر کے روز سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر قانون ضیا الحسن لنجار نے بلدیاتی قوانین میں ترامیم سے متعلق ’سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026‘ پیش کیا، جسے ایوان نے اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران کثرت رائے منظور کرلیا جب کہ اپوزیشن ارکان نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
ایوان کی جانب سے منظور کیے گئے ترمیمی ایکٹ کے تحت میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے مالی و انتظامی اختیارات اور دائرہ کار کو واضح کردیا گیا ہے۔
قانون کے مطابق نئے بلدیاتی انتخابات ہونے تک موجودہ میئر، ڈپٹی میئر اور چیئرمین اپنے عہدوں پر کام جاری رکھیں گے اور بطور ایڈمنسٹریٹر اپنے امور انجام دیں گے جب کہ وائس چیئرمین بھی اپنے متعلقہ علاقوں میں انتظامی امور سنبھالیں گے۔
ترمیمی قانون کے تحت ڈپٹی میئر اور وائس چیئرمین اپنی متعلقہ کونسلز کے کنوینئر ہوں گے اور کونسل کے اجلاسوں کی صدارت بھی کریں گے۔ ڈپٹی میئر اور وائس چیئرمینوں کو مالی اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔
قانون میں مستقبل کی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے سے متعلق بھی وضاحت کی گئی ہے، جس کے مطابق یہ ذمہ داری میٹروپولیٹن کمشنر کے پاس ہوگی۔
نئے قانون کے تحت مقامی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے یونین کونسل، ٹاؤن اور میونسپل کمیٹی کی سطح پر مصالحاتی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، یہ کمیٹیاں کمیونٹی کے باہمی مسائل اور مقامی تنازعات کو حل کرانے میں کردار ادا کریں گی۔
ترمیمی ایکٹ میں چیئرمین یا وائس چیئرمین کو عہدے سے ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد کی منظوری کے لیے 2 تہائی اکثریت لازمی قرار دی گئی ہے۔
قانون کے مطابق آئندہ بلدیاتی انتخابات کا عمل موجودہ بلدیاتی نمائندوں کی آئینی مدت ختم ہونے سے پہلے آخری 4 ماہ کے دوران شروع کیا جائے گا۔
بلدیاتی ترمیمی ایکٹ پر ایم کیو ایم کا احتجاج افسوسناک قرار
دوسری جانب سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بلدیاتی ترمیمی ایکٹ پر ایم کیو ایم کے احتجاج کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم نے منافقانہ اور پرانا رویہ برقرار رکھا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سب نے سندھ اسمبلی کی کارروائی براہ راست دیکھی ہے اور ایم کیو ایم نے بل پر شور شرابہ کیا تاہم اس کی منظوری میں حصہ نہیں لیا۔
شرجیل میمن نے ایم کیو ایم کے رویے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کا اسمبلی فلور پر رویہ مختلف ہوتا ہے اور اپنی بات سے مکر جانا اس کی پرانی روایت ہے۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم نے بل کی تمام شقوں کو سپورٹ کیا، تاہم اسمبلی میں اس سے پیچھے ہٹ گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پہلے بھی بلدیاتی انتخابات سے بھاگ گئی تھی، جبکہ پارٹی کے اندر بھی بہت سے مسائل ہیں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم جانتی ہے کہ عوام میں اس کی پذیرائی نہیں ہے اور گراؤنڈ پر اس کی پوزیشن صفر ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں لوکل گورنمنٹ کا نظام کام کررہا ہے اور حکومت نے یہ اقدام کسی دباؤ میں آکر نہیں کیا۔
بل بغیر بحث کے سندھ اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا، ضیا الحسن لنجار
صوبائی وزیر قانون، داخلہ و پارلیمانی امور ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ بل بغیر بحث کے سندھ اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا بلکہ اس کی ہر شق پر تفصیلی بحث ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل مشاورت کے بعد پیش کیا گیا اور اس سے متعلق مشاورت میں ایم کیو ایم بھی شامل تھی۔ اگر ایم کیو ایم کو کسی شق پر اعتراض تھا تو اسے مشاورت کے دوران اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے تھا۔
ضیا الحسن لنجار کے مطابق حکومت نے ایم کیو ایم کی جانب سے دی گئی کئی تجاویز کو تسلیم کیا جب کہ بل اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھی جمہوری طریقے سے زیر غور آیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم کو بل پر اعتراض تھا تو وہ اس کی مخالفت یا بائیکاٹ کرسکتی تھی تاہم اسمبلی میں احتجاج کرکے کارروائی سے چلے جانا مناسب طرز عمل نہیں تھا۔
صوبائی وزیر قانون نے مزید کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بلدیاتی انتخابات وقت پر ہوں۔ ان کے مطابق سندھ حکومت بلدیاتی نمائندوں کی مدت ختم ہونے سے 120 دن پہلے الیکشن کمیشن کو خط لکھے گی اور اسے انتخابات کی تیاری شروع کرنے کے لیے کہا جائے گا۔
ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ حکومت نے انتخابات کے عمل کے حوالے سے مدت 90 دن رکھنے کی تجویز کے بجائے 120 دن مقرر کی ہے۔ ان کے مطابق مدت ختم ہونے کے بعد متعلقہ اختیارات الیکشن کمیشن اور ریٹرننگ افسران کو منتقل ہوجائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بلدیاتی اداروں کے چیئرمینز کو اختیارات دینا چاہتی ہے اور نیک نیتی سے بل لائی ہے۔
علی خورشیدی کا سندھ حکومت پر پری پول رگنگ کا الزام
ادھر سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے سندھ حکومت پر پری پول رگنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے بلدیاتی ترمیمی ایکٹ 2026 کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کردیا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے سندھ حکومت کے رویے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سندھ میں اکثریت کی بنیاد پر فیصلے مسلط کیے جارہے ہیں اور صوبے میں سیاسی ڈکٹیٹر شپ چل رہی ہے۔
علی خورشیدی نے کہا کہ صوبائی حکومت کا رویہ آمرانہ ہے جب کہ پیپلزپارٹی کی حکومت اپنے منشور کی خلاف ورزی کررہی ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے سندھ حکومت پر پری پول رگنگ کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ وہ بلدیاتی ترمیمی ایکٹ کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کررہی ہے اور اس کا اقدام توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔
جماعت اسلامی کا بلدیاتی ترمیمی بل پر ردعمل
ادھر جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے بلدیاتی ترمیمی بل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئے بل میں جماعت اسلامی کی تجویز کردہ صرف 2 ترامیم کو شامل کیا گیا ہے جب کہ بل کے بیشتر نکات پر جماعت اسلامی کا شدید اختلاف برقرار ہے۔
محمد فاروق کا کہنا تھا کہ اس قانون سازی کے ذریعے مرتضیٰ وہاب کو سیاسی تحفظ فراہم کیا گیا ہے تاہم نئی ترمیم کے بعد وہ اب سٹی کونسل کے اجلاس کی صدارت نہیں کر سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا اختلاف ہے کہ الیکشن ہونے تک میئر اور چیئرمین ایڈمنسٹریٹر ہوگا، قانون کے ذریعے میئر اور چیئرمین کونسل کو جوابدہ نہیں رہے، ہماری جو ترامیم مانی وہ 2 ہیں، مصالحاتی کمیٹی سے پولیس مکمل تعاون کرے گی۔
جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی نے واضح کیا کہ ڈپٹی میئر کی غیر موجودگی میں اجلاس چلانے کے لیے 3 رکنی ’پینل آف چیئرمین‘ تشکیل دیا جائے گا، جس میں ایک نمائندہ اپوزیشن اور دو حکومت سے شامل ہوں گے۔