پاکستانی اور بھارتی بحری جہازوں کی ٹکر: 1991ء کے نیوی معاہدے کا آرٹیکل 10 کیا ہے؟
شمالی بحیرہ عرب میں پاکستانی اور بھارتی بحری جہازوں کے درمیان پیش آنے والی مبینہ ٹکر نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور عسکری کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے۔ پاکستان نے بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کولکتہ کی جانب سے اپنے خصوصی اقتصادی زون کی خلاف ورزی اور پاک بحریہ کی ’سی اسپارک 26‘ مشقوں کے علاقے میں غیر ذمہ دارانہ حرکات پر شدید احتجاج کیا ہے۔ جبکہ بھارت نے بھی پاکستانی سفارت کار کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمایا، جس میں کہا گیا کہ بھارتی بحری جہاز نے خطرناک انداز میں رخ تبدیل کیا اور پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس حنین سے ٹکرا گیا۔ دوسری جانب بھارت نے بھی اس واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی جہاز نے ان کے جہاز کا راستہ کاٹا اور یہ اقدام دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
اس پورے تنازع کی بنیاد اپریل 1991ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والے فوجی مشقوں اور نقل وحرکت سے متعلق معاہدے کا آرٹیکل 10 ہے، جو بین الاقوامی پانیوں میں دونوں ممالک کی بحری افواج کے لیے ایک حفاظتی حد مقرر کرتا ہے۔
آرٹیکل 10 کے مطابق پاکستان اور بھارت کے جنگی بحری جہازوں اور آبدوزوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ کھلے سمندر میں ایک دوسرے سے کم از کم تین ناٹیکل میل یعنی تقریباً 5.6 کلومیٹر کا فاصلہ برقرار رکھیں۔
اس قانون کا مقصد کسی بھی قسم کے حادثے، غلط فہمی یا غیر متوقع تصادم کو روکنا ہے، کیونکہ سمندر میں کوئی ظاہری سرحد نہیں ہوتی اور یہ فاصلہ دونوں فریقین کو ایک دوسرے کی شناخت کرنے اور ریڈیو پر رابطہ قائم کرنے کا وقت فراہم کرتا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اس واقعے پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی اقدامات اس 1991ء کے دوطرفہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور متعدد بار انتباہ کے باوجود بھارتی بحری جہاز نے غیر ذمہ دارانہ حرکات جاری رکھیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی بحری جہاز کا اقدام انتہائی اشتعال انگیز تھا اور سنگین بحران پیدا کر سکتا تھا، تاہم پاک بحریہ کے پیشہ وارانہ اور ذمہ دارانہ طرز عمل نے صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکا۔
دفتر خارجہ نے مزید خبردار کیا ہے کہ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ مستقبل میں بھارتی اشتعال انگیزی کے سامنے موجودہ سطح کا ضبط یقینی نہ سمجھا جائے۔
دوسری جانب بھارتی حکام کا موقف ہے کہ 15 ستمبر کو ان کا بحری جہاز معمول کے نگرانی کے مشن پر تھا جب پاکستانی جہاز نے ان کا تعاقب کیا اور ریڈیو چینل 16 پر کی جانے والی کالز کا جواب نہیں دیا۔
بھارت نے بھی اس واقعے کو آرٹیکل 10 کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اس آرٹیکل کا حوالہ دیا گیا ہو، اس سے قبل جون 2011ء میں بھی خلیج عدن میں بھارتی جہاز آئی این ایس گوداوری اور پاکستانی جہاز پی این ایس بابر کے درمیان رگڑ کے واقعے کے بعد بھی اس معاہدے کے تحت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا تھا، جسے بعد میں پاکستان نے مسترد کر دیا تھا۔
پاکستان کا جدید ترین سمندری جنگی جہاز ’پی این ایس حنین‘ کیا صلاحیتیں رکھتا ہے؟

پاکستان بحریہ کا جنگی جہاز پی این ایس حنین ایک جدید اور درمیانے سائز کا کثیر المقاصد آف شور پیٹرول ویسل ہے، جو سمندری دفاع اور نگرانی کے لیے اعلیٰ ترین صلاحیتوں سے لیس ہے۔
رومانیہ کے ڈیمن شپ یارک میں تیار کیا جانے والا یہ جہاز جولائی 2024ء میں پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔
ڈیمن او پی وی 2600 ڈیزائن پر مبنی اس جہاز کی لمبائی تقریباً 98 میٹر یعنی 322 فٹ ہے، اور یہ یرموک کلاس کا تیسرا بڑا جہاز ہے۔
اس سے قبل پاکستان نیوی میں شامل ہونے والے دو جہاز پی این ایس یرموک اور پی این ایس تبوک سائز میں اس سے چھوٹے اور وزن میں تقریباً 600 ٹن ہلکے ہیں۔

یہ جہاز برقی جنگی نظام، سطح سے سطح اور سطح سے ہوا میں مار کرنے والے میزائلوں، جدید سينسرز اور خودکار دفاعی نظام سے لیس ہے۔
اس کے ہتھیاروں میں 30 ملی میٹر اور 12.7 ملی میٹر کے ریموٹ کنٹرولڈ ہتھیاروں کے علاوہ 20 ملی میٹر کا کلوز ان ویپن سسٹم بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ یہ جہاز ایک ہیلی کاپٹر اور ڈرون ڈیوائسز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جب کہ سمندری سیکیورٹی اور نگرانی کے لیے اس میں خصوصی کشتیاں بھی موجود ہوتی ہیں۔
جہاز کا ایندھن کا ٹینک 300 کیوبک میٹر کی گنجائش رکھتا ہے اور اسے چار کیٹرپلر ڈیزل انجنوں کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔
اس جہاز میں 60 افراد پر مشتمل عملہ تعينات ہو سکتا ہے اور یہ مسلسل 40 دن تک سمندر میں قیام کر سکتا ہے۔
تقریباً 22 ناٹیکل میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والا یہ جہاز 6 ہزار ناٹیکل میل یعنی 11 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک بغیر رکے آپریشنز انجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔