پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کی اسلام آباد کو سومنات بنانے کی دھمکی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے اسلام آباد کو سومنات بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ پیچھے نہیں ہٹیں گے، 27 ستمبر کو اسلام آباد جائیں گے، داخلے کے لیے ایک راستہ استعمال نہیں کریں گے، موٹر وے اور جی ڈی روڈ سے بھی جائیں گے، ہم مارگلہ کے پہاڑوں سے بھی اتریں گے۔

اتوار کو مردان میں ورکر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جنید اکبر نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاج کے حوالے سے مختلف راستوں سے آنے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ اسلام آباد کو ہم سومنات بنائیں گے، ہم اسلام آباد کو تباہ کر دیں گے، ہم راستے سے نہیں ہٹیں گے اور اسلام آباد جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ایک راستے سے نہیں جائیں گے، ہم موٹروے اور جی ٹی روڈ سے بھی جائیں گے، ہم مارگلہ کے پہاڑوں سے بھی اتریں گے اور ڈی آئی خان سے بھی اتریں گے۔

صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے ماضی کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلی دفعہ تو ہم ریاست کو ماں سمجھ رہے تھے، ہمیں پتہ نہیں تھا کہ ریاست گولیاں چلا سکتی ہے اور ہم اپنی لاشیں اٹھاکر آئیں۔

جنید اکبر نے مزید کہا ہے کہ پچھلی مرتبہ ہم اپنی لاشیں اٹھا کر واپس چلے گئے تھے اور اس وقت ہم اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ احتجاج کرسکتے، اس دفعہ ہمیں پتہ ہے ریاست گولیاں چلائیں گی، اس دفعہ ایسا نہیں ہوگا کہ لاشیں دفن کرکے خاموش رہیں، لاشیں اٹھائیں گے اور نئے لوگ آئیں گے۔

جنید اکبر کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے اور پارٹی قیادت کی جانب سے کارکنوں کو تیاریوں کی ہدایات دی گئی ہیں۔

جنید اکبر کے اشتعال انگیز بیان سے 27 ستمبر کے احتجاج کو پرتشدد بنانے کی مبینہ منصوبہ بندی پرتشویش بڑھ گئی ہے جب کہ ان کی دھمکی پر احتجاج سے قبل ان کے بیان نے امن و امان کی صورت حال پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

حکومت اور ادارے پہلے ہی ممکنہ پر تشدد صورت حال کے خدشات کے پیش نظر صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جنید اکبر کی تقریر سے تحریک انصاف کے عزائم واضح ہونے پرعوام میں بھی تشویش پیدا ہوچکی ہے۔

اسلام آباد کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں: طارق فضل چوہدری

دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جنید اکبر کے 27 ستمبر کے احتجاج سے متعلق بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو ’’سومنات‘‘ بنانے کی دھمکی دینے والے جنید اکبر خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام آباد کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں، یہ پاکستان کا دارالحکومت اور 25 کروڑ عوام کی نمائندگی کرنے والا شہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنی طرزِ سیاست اور حکمرانی سے خیبرپختونخوا کو جس بدامنی، بدانتظامی اور سیاسی انتشار سے دوچار کیا، اسے ’’سومنات‘‘ بنانے کی سیاست نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ اب اسلام آباد کے بارے میں ایسی زبان اور ایسے عزائم ناقابلِ قبول ہیں۔

طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہے لیکن دارالحکومت کو میدانِ تصادم بنانے کی دھمکیاں نہ جمہوری سیاست ہیں نہ عوام کے مفاد میں، اسلام آباد کو نقصان پہنچانے کے عزائم کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے، جنید اکبر اسلام آباد کے بجائے خیبرپختونخوا کے عوامی مسائل پرتوجہ دیں۔

دہشت گرد بن کر آئیں تو واپس جانے نہیں دیں گے: طلال چوہدری

ادھر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی جنید اکبر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ پر امن شہری ہیں تو ہر راستے سے اسلام آباد آئیں اور 100 بار آئیں لیکن  اگر دہشت گرد بن کر آئیں گے تو پھر واپس جانے نہیں دیں گے۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر مکمل طور پر عمل کیا جائے گا اور کوئی غیر قانون اقدام برداشت نہیں کیا جائے گا، اسلام آباد میں ایسی کوئی چیز برداشت نہیں کی جائے گی جو غیرقانونی ہو  یا جس سے جان ومال کوخطرہ ہو ۔

وزیر مملکت نے مزید کہا کہ یہ کہتے ہیں سومنات بنادیں گے، ہمیں پتا ہے انہوں نے خیبر پختوخوا کو سومنات بنادیا ہے، ہم اس طرح کی سوچ کو آگے نہیں بڑھنے دیں گے، انہوں نے خود بتادیا کہ ان کا اصل پلان کیا ہے۔

سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دیں گے: عطا تارڑ

اسی طرح وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان کا مقصد انتشار اور تخریب کاری پیدا کرنا ہے، یہ لوگ پُرامن احتجاج پر یقین نہیں رکھتے، یہ تشدد اور خونریزی کا راستہ اختیار کرتے ہیں، عوام کی جان و مال اور روزگار کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کی کال غیر قانونی ہے، سڑکیں بند کرنے اور عوامی زندگی میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے، حکومت عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گی، سڑکیں بلاک کرکے لوگوں کی زندگی متاثر نہیں کرنے دیں گے، حکومت امن وامان برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

Related posts