کوہاٹ دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کا افغان طالبان سے کارروائی کا مطالبہ
پاکستان نے افغان طالبان سے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانے، بھرتی اور معاونت کا ڈھانچہ پاکستان کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ وزارتِ اطلاعات نے ذبیح اللہ مجاہد کی پاکستان کو دھمکی کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوہاٹ حملے کی مذمت کے ساتھ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے کوہاٹ پولیس لائنز پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کریں اور اپنی ذمہ داری سے انحراف کے بجائے ان نیٹ ورکس کو ختم کریں۔
وزارت کے مطابق کوہاٹ حملے میں ملوث ایک خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ نامی افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ دوسرے خودکش حملہ آور کی شناخت کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ وزارت نے کہا کہ حملہ آور کی افغان شہری کے طور پر شناخت نے افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے دیرینہ خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔
کوہاٹ پولیس لائنز میں جمعہ کی نماز کے دوران مسجد کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ حملے کے بعد کلیئرنس آپریشن ہفتے تک جاری رہا، جس میں 8 دہشت گرد مارے گئے۔ حملے میں 17 پولیس اہلکاروں اور 6 شہریوں سمیت 23 افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق حملہ مسجد کے قریب خودکش دھماکے سے شروع ہوا، جس کے بعد بعض حملہ آور اسپیشل برانچ کی عمارت میں داخل ہوگئے۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے فتنۃ الخوارج اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی جانب سے افغان سرزمین کو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جانے کا معاملہ افغان طالبان حکومت اور اس کے متعلقہ حلقوں کے سامنے بارہا اٹھایا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے، بھرتی کے نیٹ ورکس اور معاونتی ڈھانچہ پاکستان کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ پاکستان نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے، بھرتی و تربیتی نیٹ ورکس کو توڑنے اور پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی روکنے کے لیے قابلِ اعتماد، قابلِ تصدیق اور مستقل اقدامات کیے جائیں۔
وزارت نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے پاکستان کو دی گئی ’کرشنگ رسپانس‘ کی دھمکی کو قابل مذمت قرار دیا اور کہا کہ افغان حکام کو پاکستان کو دھمکیاں دینے کے بجائے ان دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
وزارت اطلاعات نے افغان وزارت خارجہ کی جانب سے کوہاٹ حملے کی مذمت اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کا بھی نوٹس لیا، تاہم کہا کہ صرف مذمت کافی نہیں۔ بیان کے مطابق مذمت کے ساتھ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف ٹھوس اقدامات بھی ضروری ہیں۔
وزارت نے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور افغان طالبان کے ساتھ تعمیری روابط کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے، تاہم ایسے عناصر کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مذاکرات کا سہارا لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو پاکستانی شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان اپنے شہریوں، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے عالمی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
وزارت اطلاعات نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ افغان طالبان پر دہشت گردی کے خطرے کے خلاف فیصلہ کن اور قابلِ تصدیق اقدامات کے لیے زور ڈالے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی مسلسل موجودگی علاقائی عدم استحکام اور وسیع تر سکیورٹی خدشات کو بڑھا سکتی ہے۔