‘ایران میں فوج اتارنے سے امریکا میں سیاسی انقلاب کا خدشہ’

ایران میں ممکنہ امریکی فوجی مداخلت کے معاملے پر امریکا کے اندر سیاسی تناؤ بڑھنے لگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سابق قریبی اتحادی اور ریپبلکن رہنما مارجوری ٹیلر گرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران میں فوج اتاری تو ملک میں “سیاسی انقلاب” جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، کیونکہ امریکی عوام مزید غیر ملکی جنگیں نہیں چاہتے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریپبلکن رہنما مارجوری ٹیلر گرین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی مداخلت کی سخت مخالفت کی۔

مارجوری ٹیلر گرین، جو ایک وقت میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’’میک امریکا گریٹ اگین‘‘ تحریک کی نمایاں شخصیت سمجھی جاتی تھیں، نے کہا کہ ’’ہم مزید غیر ملکی جنگیں نہیں چاہتے اور ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔‘‘

انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا، ’’WE. ARE. DONE‘‘، جبکہ مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران میں فوج بھیجنے کی کوشش کی تو ایک مضبوط اتحاد کھڑا ہوگا جو ناقابلِ شکست ہوگا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی اور اسرائیلی حکام کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ حملوں پر غور کیے جانے کی اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کے معاملے پر امریکی سیاست میں اختلافات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں، جہاں ایک جانب سخت مؤقف اختیار کرنے والے حلقے موجود ہیں تو دوسری جانب نئی جنگ سے بچنے کی آوازیں بھی بلند ہورہی ہیں۔

Related posts