بنگلہ دیش سے دوسری بار وائٹ واش: شان مسعود کے مستعفی ہونے کا امکان
پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود بنگلادیش کے خلاف عبرتناک شکست سے دل برداشتہ ہو گئے، جس کے بعد ان کے قومی ٹیم کی کپتان سے مستعفی ہونے کا امکان ہے۔ دوسری طرف شان مسعود کی قیادت میں پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی ناکامیاں طویل ہوگئیں، قومی ٹیم 16 میں سے 12 ٹیسٹ میچز ہار گئی۔
ٹیسٹ سیریز میں بنگلادیش کے ہاتھوں ایک اور وائٹ واش، بڑھتے پریشر اور تنقید کے بعد پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود کے مستعفی ہونے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش سے وطن واپسی پر شان مسعود چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ملاقات میں کپتانی سے مستعفی ہونے کی پیشکش کریں گے، شان مسعود کے مستقبل کے حوالے سے حتمی فیصلہ بورڈ سربراہ کی صوابدید ہوگی۔
شان مسعود کو بطور کپتان شدید تنقید کا سامنا ہے، وہ دسمبر 2023 میں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بنے تھے اور ان کی قیادت میں پاکستان نے 16 ٹیسٹ میچز کھیلے، جن میں سے صرف 4 ٹیسٹ جیتے اور 12 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
شان مسعود کی قیادت میں پاکستان ٹیم کی طویل ناکامیاں
دوسری جانب شان مسعود کی قیادت میں پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی ناکامیاں طویل ہوگئیں، قومی ٹیم کو اب تک ان کی قیادت میں کھیلے گئے 16 ٹیسٹ میچز میں سے 12 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ کامیابیوں کی تعداد انتہائی محدود رہی۔
بنگلادیش کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں بھی پاکستان ٹیم خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی اور شان مسعود کی کپتانی میں ہی دوسری مرتبہ وائٹ واش شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس نے ٹیم کی پرفارمنس پر مزید سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
اس سے قبل سال 2024 میں بھی بنگلادیش نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، جہاں مہمان ٹیم نے قومی ٹیم کو دو صفر سے شکست دے کر تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔
حالیہ نتائج کے بعد قومی ٹیم کی مجموعی کارکردگی، ٹیم کمبی نیشن اور قیادت کے حوالے سے سوالات ایک بار پھر زیر بحث آگئے ہیں۔
واضح رہے کہ سلہٹ میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ کے آخری دن بنگلا دیش نے تاریخ رقم کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کو دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کیا ہے۔
پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں ڈھاکا کے مقام پر 104 رنز جب کہ دوسرے اور آخری ٹیسٹ میں سلہٹ میں 78 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جب کہ میزبان ٹیم نے 2 میچز کی ٹیسٹ سیریز 2-0 سے جیت لی۔
تبدیلی سے زیادہ بہتری کے لیے سوچنا ہوگا: شان مسعود
بنگلادیش کے خلاف سیریز میں شکست کے بعد سلہٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شان مسعود نے کہا کہ میری نیت صاف ہے اور کپتانی کی ذمہ داری ٹیسٹ کرکٹ میں بہتری کیلئے لی تھی، کچھ چیزیں ہیں جنہیں بہتر کرنے کیلئے کرکٹ بورڈ سے بیٹھ کر بات کرنی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ کپتانی کے حوالے سے فیصلہ ہمیشہ کرکٹ بورڈ کا ہوتا ہے، ان کی سوچ ہمیشہ کرکٹ کی بہتری کیلئے رہی ہے، بہتری لانے کیلئے ضروری نہیں کہ کرسی پر بیٹھ کر ہی سوچا جائے یا فیصلے کیے جائیں۔
شان مسعود کے مطابق تبدیلی سے زیادہ ٹیسٹ کرکٹ کو بہتر بنانے کیلئے سوچنا ہوگا، شکست کا ذمہ دار بیٹنگ، بولنگ یا فیلڈنگ کو قرار نہیں دوں گا ، جب جیت ہوتی ہے تو 10رنز ہوں یا 100رنز سب کی اہمیت ہوتی ہے، شکست پر وہ بھی دلبرداشتہ ہیں لیکن نا تو جذبات میں آکر سوچنا ہوگا اور نا ہی جذباتی فیصلے کرنے ہوں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ جو کمی یا خامی ہے اس کو کس طرح پورا کیا جائے، 40 سال کا کرکٹر ہو یا 18 سال کا کمی یا خامی کو دور کرنا ہوتا ہے۔