گلگت بلتستان الیکشن: حکومت سازی کا نمبر گیم اور طریقہ کار کیا ہے؟
گلگت بلتستان میں عام انتخابات کے انعقاد کے بعد غیر حتمی نتائج سامنے آنے کا سلسلہ اور حکومت سازی کے لیے سیاسی حساب کتاب شروع ہوچکا ہے۔ سرکاری نتائج سامنے آنے کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ گلگت بلتستان میں کسی ایک جماعت کی حکومت بنے گی یا اتحادی حکومت۔ ریکارڈ تعداد میں آزاد امیدواروں کی شرکت سے یہ سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ کیا آزاد امیدوار ’کنگ میکر‘ بن سکتے ہیں؟
گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پولنگ کے پُرامن اختتام کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مختلف حلقوں سے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔
اس مرتبہ انتخابات کی سب سے اہم بات 266 آزاد امیدواروں کا میدان میں اترنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں حکومت سازی کے لیے اِن آزاد امیدواروں کا کردار انتہائی کلیدی ہوگا۔
گلگت بلتستان میں اگلی حکومت کس کی ہوگی، اس سے قبل قانون ساز اسمبلی کی ساخت اور حکومت سازی کا فارمولا سمجھنا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی مجموعی طور پر 33 نشستوں پر مشتمل ہے۔ ان میں 24 جنرل نشستیں ہیں جن پر براہِ راست عوام اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں، اتوار کے روز ان ہی 24 نشستوں پر انتخابات ہوئے ہیں جن کی گنتی جاری ہے۔
اس کے علاوہ خواتین کے لیے 6 سیٹیں جب کہ ٹیکنوکریٹس کے لیے 3 نشستیں مختص ہیں جو مخصوص ہیں جو سیاسی جماعتوں کو ان کی جیتی گئی جنرل سیٹوں کے تناسب سے ملتی ہیں۔ یوں کُل ملا کر یہ 33 سیٹیں بن جاتی ہیں۔
پہلے مرحلے میں 24 جنرل نشستوں پر براہِ راست انتخابات ہوتے ہیں۔ ان نشستوں پر کامیاب ہونے والے امیدوار اسمبلی کے رکن بنتے ہیں۔
دوسرے مرحلے میں خواتین اور ٹیکنوکریٹس کی 9 مخصوص نشستیں سیاسی جماعتوں میں ان کی جیتی گئی جنرل نشستوں کے تناسب سے تقسیم کی جاتی ہیں۔ جس جماعت کی جنرل نشستیں زیادہ ہوں گی، اسے مخصوص نشستوں میں بھی زیادہ حصہ ملے گا۔
گلگت بلتستان اسمبلی میں حکومت بنانے کے لیے مجموعی طور پر 17 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ نشستوں کی تقسیم کے طریقہ کار کے مطابق جنرل نشستوں کے نتائج حکومت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
یعنی 24 جنرل نشستوں میں سے 13 نشستیں حاصل کرنے والی جماعت یا اتحاد مخصوص نشستوں کی تقسیم کے بعد اکثریت حاصل کرنے کی مضبوط پوزیشن میں آ جاتا ہے۔
اگر کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہو تو دو یا دو سے زیادہ جماعتیں مل کر اتحادی حکومت قائم کرسکتی ہیں۔ یعنی 33 رکنی ایوان میں جس جماعت یا اتحاد کے پاس کم از کم 17 ارکان کی حمایت موجود ہوئی، اسے حکومت بنانے کا حق حاصل مل جائے گا۔
اس کے بعد اسمبلی کے منتخب اراکین قائدِ ایوان یعنی وزیراعلیٰ کا انتخاب کیا جائے گا، جو بعد ازاں اپنی کابینہ تشکیل دے گا۔
حکومت سازی کے اس فارمولے کے تحت اگر کسی جماعت یا اتحاد 24 جنرل نشستوں میں 13 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تو وہ مخصوص نشستوں کو ملا کر تکنیکی طور پر اکثریت حاصل کرلے گا۔
کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں حکومت سازی کے لیے آزاد امیدواروں کا کردار انتہائی کلیدی ہوگا۔
واضح رہے کہ 2009 میں وفاقی حکومت نے ’گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر‘ کے تحت پہلی بار باقاعدہ صوبائی طرز کی اسمبلی اور وزارتِ اعلیٰ کا نظام متعارف کروایا تھا۔
خصوصی درجہ ملنے کے بعد سے یہ گلگلت بلتستان کے چوتھے عام انتخابات ہیں۔ اس خطے پر اب تک پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومتیں رہ چکی ہیں۔
پیپلزپارٹی کے سید مہدی شاہ 2009 کے پہلے عام انتخابات میں خطے کے پہلے منتخب وزیراعلیٰ بنے۔ اس کے بعد 2015 میں مسلم لیگ ن کے حافظ حفیظ الرحمان نے دوسرے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔ ان دونوں وزرائے اعلیٰ نے اپنی 5،5 سالہ مدت مکمل کی۔
پاکستان تحریک انصاف کے خالد خورشید خان 2020 میں گلگت بلتستان کے تیسرے وزیر اعلیٰ بنے تاہم 2023 میں جعلی ڈگری کیس میں نااہل ہونے کے باعث انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا۔ خالد خورشید کی نااہلی کے بعد پی ٹی آئی کے ہی فارورڈ بلاک کے رہنما حاجی گلبر خان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے اشتراک سے مخلوط حکومت بنائی اور نومبر 2025 تک وزارتِ اعلیٰ سنبھالی۔
2025 میں اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد سے جسٹس (ر) یار محمد خان نگراں وزیراعلیٰ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان ہی کی زیرِ نگرانی 7 جون کو گلگت بلستستان کے چوتھے عام انتخابات کا انعقاد ہوا ہے۔