ترکیے نے نیتن یاہو کی گرفتاری کے لیے انٹرپول ریڈ نوٹس کی درخواست کردی

ترکیے نے غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کو روکنے اور کارکنوں کو حراست میں لینے کے مقدمے میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کردی ہے۔ ترک وزیر انصاف آکن گورلیک کے مطابق دونوں کے خلاف 14 جولائی 2026 کو ’نسل کشی‘ سمیت مختلف الزامات کے تحت گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جاچکے ہیں۔

جمعے کو ترک وزیر انصاف آکن گورلیک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں بتایا کہ ترکیے نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور اسرائیلی شہری افیک موسکووچ کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔

آکن گورلیک کے مطابق یہ درخواست غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کو 2025 میں بین الاقوامی پانیوں میں روکنے اور اس میں موجود کارکنوں کو حراست میں لینے کے معاملے سے متعلق ترکیہ میں جاری مقدمے کا حصہ ہے۔

ترک وزیر انصاف نے بتایا کہ استنبول کی 11ویں ہائی کریمنل کورٹ میں اس واقعے سے متعلق 35 ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی جاری ہے، جن میں نیتن یاہو اور افیک موسکووچ بھی شامل ہیں۔

ان کے مطابق نیتن یاہو اور موسکووچ کے خلاف 14 جولائی 2026 کو ’نسل کشی‘ سمیت مختلف الزامات کے تحت گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔ اس کے بعد وزارت انصاف نے وزارت داخلہ سے دونوں ملزمان کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس کی درخواست کرنے کو کہا جب کہ متعلقہ دستاویزات وزارت خارجہ کو بھی بھجوا دی گئی ہیں۔

آکن گورلیک کے مطابق نیتن یاہو اور موسکووچ کے خلاف غزہ کے لیے انسانی امداد پہنچانے والے شہریوں کے خلاف بین الاقوامی پانیوں میں مبینہ مسلح کارروائی اور کارکنوں کو حراست میں لینے کے معاملے میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان پر انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی، سنگین نوعیت کی آزادی سے محرومی، دانستہ زخمی کرنے، تشدد، املاک کو نقصان پہنچانے، سنگین ڈکیتی اور ذرائع آمدورفت کو ہائی جیک کرنے سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ترک وزیر انصاف نے افیک موسکووچ کے حوالے سے مزید تفصیلات یا مبینہ کارروائی میں ان کے کردار کی وضاحت نہیں کی۔ آکن گورلیک نے کہا کہ ترکیہ غزہ میں ہونے والے جرائم کو دبانے یا ذمہ دار افراد کو سزا سے بچانے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے مطابق ترکیہ قومی اور بین الاقوامی قانون کے تحت دستیاب تمام ذرائع کو عزم کے ساتھ استعمال کرے گا۔

گلوبل صمود فلوٹیلا کیا تھا؟

گلوبل صمود فلوٹیلا ایک بین الاقوامی شہری اور انسانی امدادی مہم ہے، جو ستمبر 2025 میں درجنوں کشتیوں اور 40 سے زائد ممالک کے کارکنوں کے ساتھ غزہ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس کا مقصد اسرائیلی بحری ناکہ بندی توڑنا اور غزہ میں انسانی امداد پہنچانا تھا۔

اسرائیلی فورسز نے بین الاقوامی پانیوں میں فلوٹیلا کی بیشتر کشتیوں کو روک لیا تھا اور سیکڑوں شرکا کو حراست میں لیا گیا تھا۔ فلوٹیلا میں ترکیہ کے بھی درجنوں شہری شامل تھے اور کارروائی کے دوران 48 ترک کارکنوں کو اسرائیلی فورسز نے حراست میں لیا تھا۔

استنبول کے پراسیکیوٹرز نے اپریل 2026 میں نیتن یاہو اور 34 دیگر اسرائیلی حکام کے خلاف فرد جرم عائد کی تھی۔ ان پر نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور دیگر جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مقدمے کی عدالتی کارروائی اپریل 2026 میں شروع ہوئی تھی اور بعد ازاں استنبول کی عدالت نے ترک حکام کو نیتن یاہو اور موسکووچ کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا۔

انٹرپول ریڈ نوٹس کیا ہے؟

انٹرپول ریڈ نوٹس رکن ممالک سے کسی مطلوب شخص کو تلاش کرنے اور حوالگی یا دیگر قانونی کارروائی مکمل ہونے تک عارضی طور پر حراست میں لینے کی درخواست ہوتی ہے۔ تاہم ریڈ نوٹس جاری ہونے کے بعد بھی رکن ممالک قانونی طور پر مطلوب شخص کو گرفتار کرنے کے پابند نہیں ہوتے۔ ترکیہ اور اسرائیل دونوں انٹرپول کے رکن ممالک میں شامل ہیں۔

ترکیہ اس سے قبل بھی اسرائیلی حکام کے خلاف اسی نوعیت کی کارروائی کرچکا ہے۔ 2014 میں ایک ترک عدالت نے 2010 میں غزہ جانے والے ’ماوی مرمرہ‘ فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی کے معاملے میں 4 سابق اسرائیلی فوجی حکام کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس کی درخواست کی تھی۔ اس کارروائی میں 10 ترک شہری ہلاک ہوئے تھے تاہم اس مقدمے میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان شام سمیت مختلف معاملات پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ منگل کو اسرائیل نے شمال مغربی شام میں ابو الظہور ایئربیس کو نشانہ بنایا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ دمشق وہاں ترک فورسز کی تعیناتی کی اجازت دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ترکیہ نے اسرائیل کے اس دعوے کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

ترکیہ نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت اندرونی سیاسی مقاصد کے لیے انقرہ کے ساتھ کشیدگی کو استعمال کررہی ہے جب کہ اسرائیل میں اکتوبر کے انتخابات ہونے ہیں۔

اس سے قبل نومبر میں بھی استنبول کی ایک عدالت نے غزہ میں اسرائیلی جنگ سے متعلق نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں نیتن یاہو اور 36 دیگر اسرائیلی حکام کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ یہ وارنٹ ترکیہ کے داخلی احکامات تھے اور ان کا عملی اطلاق اس وقت تک ممکن نہیں جب تک نیتن یاہو یا دیگر ملزمان ترک حدود میں داخل نہ ہوں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ترکیہ کے تازہ اقدام پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ اسرائیلی وزارت خارجہ نے بھی فوری طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

Related posts