اپنے ہی تین بچوں کا قتل کرنے والی خاتون کے لیے لاکھوں ڈالرز کا چندہ اور حمایت کیوں؟عالمی خبریں 

اپنے ہی تین بچوں کا قتل کرنے والی خاتون کے لیے لاکھوں ڈالرز کا چندہ اور حمایت کیوں؟

امریکا کی ریاست میساچوسٹس میں تین بچوں کی ہلاکت کا ایک مقدمہ تین سال سے زائد عرصے بعد ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اس مقدمے میں 32 سالہ لِنڈسی کلینسی نے اپنے 3 بچوں کی جان لے لی تھی۔

جنوری 2023 میں کلینسی نے اپنے 5 سالہ بیٹی کورا، 3 سالہ بیٹے ڈاسن اور 8 ماہ کے بیٹے کیلان کو گلا گھونٹ کر ہلاک کیا۔ بچوں کی جان لینے کے بعد اس نے دوسری منزل کی کھڑکی سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی، تاہم وہ زندہ بچ گئی اور ریڑھ کی ہڈی پر شدید چوٹوں کے باعث مفلوج ہوگئی۔

لِنڈسی کلینسی نے تینوں بچوں کے قتل کے الزامات سے انکار کیا ہے، تاہم اس کے وکلا نے عدالت میں بنیادی طور پر یہ تسلیم کیا ہے کہ بچوں کی موت اس کے ہاتھوں ہوئی۔ اصل قانونی تنازع اس بات پر ہے کہ اس وقت اس کی ذہنی حالت کیا تھی اور کیا وہ اپنے اعمال کی نوعیت اور نتائج کو سمجھنے کی ایسی حالت میں تھی کہ اسے قانونی طور پر قتل کی ذمہ دار قرار دیا جا سکے۔

لِنڈسی پر فرسٹ ڈگری قتل کے تین الزامات ہیں۔ دفاع کا مؤقف ہے کہ وہ شدید پوسٹ پارٹم سائیکوسس، یعنی بچے کی پیدائش کے بعد پیدا ہونے والی ایک سنگین ذہنی بیماری، کا شکار تھی اور اس بیماری نے اس کی حقیقت کو سمجھنے اور اپنے اعمال پر قابو رکھنے کی صلاحیت متاثر کر دی تھی۔ استغاثہ اس مؤقف سے اختلاف کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ قتل سوچ سمجھ کر کیے گئے اور لِنڈسی اپنے اعمال کی حقیقت سے آگاہ تھی۔

اسی اختلاف نے اس مقدمے کو صرف ایک قتل کیس نہیں رہنے دیا بلکہ اسے زچگی کے بعد ذہنی صحت، علاج تک رسائی اور خاندان و طبی نظام کی ذمہ داری سے متعلق ایک بڑے سوال میں تبدیل کر دیا ہے۔

20 اگست 2026 کو تقریباً 300 خواتین پلی ماؤتھ کی عدالت کے باہر لِنڈسی کی حمایت میں جمع ہوئیں۔ ان میں سے کئی خواتین نے گلابی رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کی موت کو درست قرار دینے کے لیے وہاں نہیں آئیں، بلکہ اس لیے موجود ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ لِنڈسی کی ذہنی بیماری اور اس کی مدد حاصل کرنے کی کوششوں کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔

اپنے ہی تین بچوں کا قتل کرنے والی خاتون کے لیے لاکھوں ڈالرز کا چندہ اور حمایت کیوں؟
(لِنڈسی کلینسی کے حامی پلیموتھ سپیریئر کورٹ کے باہر جمع ہیں۔)

بعض حامیوں کے مطابق لِنڈسی ایک ایسی ماں تھی جو شدید ذہنی مشکلات سے گزر رہی تھی اور بار بار مدد چاہتی تھی۔ ان کے نزدیک اس مقدمے کا سوال صرف یہ نہیں کہ بچوں کے ساتھ کیا ہوا، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایک ماں اس انتہائی خطرناک ذہنی حالت تک کیسے پہنچی اور اس وقت اس کے اردگرد موجود لوگ اور طبی نظام کیا کر رہے تھے۔

لاکھوں ڈالرز کی فنڈ مہم ”گو فنڈ می“

لِنڈسی کلینسی کے خاندان کے لیے مالی مدد کی ایک مہم بھی شروع کی گئی ہے۔ ”دی مسگروو فیملی فنڈ“ نامی ”گو فند می“ مہم لِنڈسی کے والدین مائیکل اور پاؤلا مسگروو کے لیے قائم کی گئی ہے، جو گزشتہ تین برس سے بیٹی کے مقدمے کے سلسلے میں سفر، رہائش اور دیگر اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔ 22 اگست تک رقم 10 لاکھ ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی اور تقریباً 31 ہزار افراد نے اس میں حصہ لیا۔

اس مہم کا ہدف 20 لاکھ ڈالر رکھا گیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ رقم لِنڈسی کے والدین کی مالی مشکلات کم کرنے کے لیے ہے اور عطیہ دینے والوں سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا رہا کہ وہ لِنڈسی کے مقدمے یا اس کے بارے میں کسی خاص مؤقف کی حمایت کریں۔ ’گو فنڈ می‘ کے مطابق مائیکل مسگروو اس مہم کے نامزد مستفید ہیں اور مہم ان کے علم اور رضامندی سے قائم کی گئی ہے۔

لِنڈسی کی والدہ پاؤلا مسگروو نے عدالت میں بتایا کہ اکتوبر 2022 کے آس پاس ان کی بیٹی کی ذہنی حالت تیزی سے خراب ہونا شروع ہوئی۔ ان کے مطابق لِنڈسی میں شدید بے چینی، شک اور خودکشی کے خیالات پیدا ہوئے تھے۔ مسگروو نے یہ بھی بتایا کہ قتل سے کچھ ہفتے پہلے لِنڈسی نے انہیں اور اپنے شوہر پیٹرک کو کہا تھا کہ اسے بچوں کو نقصان پہنچانے کے خیالات آ رہے ہیں۔

تاہم جرح کے دوران مسگروو نے تسلیم کیا کہ اس وقت انہوں نے لِنڈسی کو نفسیاتی مرکز میں داخل کرانے یا بچوں کو اس کی تحویل سے ہٹانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا۔

لِنڈسی کی بہن ایلیسن اوزگا نے بھی عدالت کو بتایا کہ اس نے اپنی بہن کی ذہنی حالت کو مسلسل خراب ہوتے دیکھا۔ اس کے مطابق لِنڈسی رفتہ رفتہ بے حس، مایوس اور ناامید ہوتی جا رہی تھی۔

لِنڈسی کی سابق ساس سوزن کلینسی نے بھی دفاع کے حق میں گواہی دی۔ انہوں نے اسے ایک محبت کرنے والی اور بچوں کی اچھی دیکھ بھال کرنے والی ماں قرار دیا اور کہا کہ ذہنی حالت خراب ہونے کے دوران وہ مدد کے لیے بے حد پریشان تھی۔

لِنڈسی کے شوہر پیٹرک نے بھی اس کی ذہنی مشکلات کے بارے میں عدالت میں بات کی ہے۔ وہ اپنی اہلیہ کے بارے میں عوامی طور پر معافی کے جذبات کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ ایسے بیانات نے کچھ لوگوں کے لیے اس کیس کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کی وجہ پیدا کی ہے۔ ان کے نزدیک لِنڈسی صرف ایک ایسی عورت نہیں جس نے اپنے بچوں کو قتل کیا، بلکہ ایک شدید ذہنی بیماری میں مبتلا شخص بھی ہو سکتی ہے جسے بروقت مناسب مدد نہیں مل سکی۔

لیکن استغاثہ اس واقعے کی بالکل مختلف تصویر پیش کر رہا ہے۔

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ لِنڈسی کے اقدامات جان بوجھ کر کیے گئے اور اسے اپنے جرائم کی قانونی ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔ استغاثہ نے ایسے شواہد کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جنہیں وہ منصوبہ بندی کی علامت سمجھتا ہے، جن میں شوہر کو گھر سے باہر بھیجنے کا معاملہ بھی شامل ہے۔

استغاثہ نے ان طبی ماہرین کی گواہی بھی پیش کی جنہوں نے قتل سے پہلے لِنڈسی کا علاج یا جائزہ لیا تھا۔ ان ماہرین کے مطابق انہیں اس کے اندر واضح طور پر ایسی علامات نظر نہیں آئیں جن سے یہ ثابت ہو کہ وہ سائیکوسس کا شکار تھی۔

استغاثہ کے ماہر نفسیات ڈاکٹر اوَرام میک نے عدالت میں کہا کہ ان کے خیال میں لِنڈسی شدید ڈپریشن میں مبتلا تھی، لیکن قتل کے وقت سائیکوسس یا مینیا کا واضح ثبوت موجود نہیں تھا۔

دفاع کی جانب سے پیش کیے گئے فرانزک ماہر نفسیات ڈاکٹر فلپ ریزنک نے اس کے برعکس رائے دی۔ ان کے مطابق لِنڈسی قتل کے وقت پوسٹ پارٹم سائیکوسس میں مبتلا تھی۔ انہوں نے اسے شدید نفسیاتی کیفیت میں قرار دیا اور کہا کہ اس پر ایسے خیالات اور تجربات غالب تھے جنہوں نے اس کی حقیقت کو سمجھنے کی صلاحیت متاثر کر دی تھی۔ ان کے مطابق لِنڈسی صحیح اور غلط میں فرق کرنے اور اپنے اعمال کو قابو کرنے کی معمول کی صلاحیت سے محروم تھی۔

یوں عدالت میں ماہرین کی رائے ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف ہے۔ یہی اختلاف مقدمے کا بنیادی نکتہ بن چکا ہے۔

پوسٹ پارٹم سائیکوسس دراصل کیا ہے؟

یہ بچے کی پیدائش کے بعد پیدا ہونے والی ایک نایاب لیکن انتہائی سنگین ذہنی بیماری ہے۔ برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق یہ تقریباً ہر ایک ہزار بچے کو جنم دینے والی خواتین میں سے ایک کو متاثر کرتی ہے۔ اس کیفیت میں کسی شخص کو ایسی آوازیں یا چیزیں سنائی یا دکھائی دے سکتی ہیں جو حقیقت میں موجود نہ ہوں۔ بعض اوقات شدید غلط فہمیاں، الجھن، غیر معمولی جوش، ڈپریشن، بے چینی اور موڈ میں بہت تیزی سے تبدیلی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اس بیماری میں مبتلا شخص بعض اوقات یہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ اس کے خیالات یا تجربات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عام طور پر زچگی کے بعد ہونے والی معمولی اداسی، جسے ”بیبی بلوز“ کہا جاتا ہے، سے بالکل مختلف اور کہیں زیادہ خطرناک حالت سمجھا جاتا ہے۔

پوسٹ پارٹم سائیکوسس کو طبی ایمرجنسی سمجھا جاتا ہے اور بعض مریضوں کو فوری طور پر اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مناسب علاج کے ساتھ بہت سے مریض صحت یاب بھی ہو جاتے ہیں۔

لِنڈسی کلینسی کے مقدمے نے اسی بیماری کو عوامی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ بہت سی خواتین کا کہنا ہے کہ معاشرے میں نئی ماؤں کی ذہنی صحت پر اب بھی اتنی توجہ نہیں دی جاتی جتنی جسمانی صحت پر دی جاتی ہے۔

تاہم اس بحث کا مطلب یہ نہیں کہ ذہنی بیماری ہر جرم کو معاف کر دیتی ہے۔ عدالت کو یہ طے کرنا ہوگا کہ لِنڈسی کی مخصوص ذہنی حالت نے قتل کے وقت اس کی قانونی ذمہ داری کو کس حد تک متاثر کیا تھا۔ یہ فیصلہ شواہد، طبی ماہرین کی گواہی اور قانون کے تحت کیا جائے گا، نہ کہ صرف عوامی ہمدردی یا غصے کی بنیاد پر۔

اسی لیے عدالت کے باہر لِنڈسی کی حمایت کرنے والی خواتین کی موجودگی بھی اس مقدمے کا ایک اہم پہلو بن گئی ہے۔ ان میں سے بہت سی خواتین بچوں کی موت کے واقعے کو کم سنگین نہیں سمجھتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انصاف کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس بات کو سمجھا جائے کہ ایک ماں کس ذہنی حالت میں اپنے بچوں کو قتل کرنے تک پہنچی۔

دوسری طرف بچوں کے قتل کی سنگینی اپنی جگہ برقرار ہے اور استغاثہ کا مؤقف ہے کہ ذہنی بیماری کا دعویٰ ایسے اعمال کی ذمہ داری سے بچنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے جب تک شواہد اس دعوے کو ثابت نہ کریں۔

بالآخر اس مقدمے کا فیصلہ عدالت کو ہی کرنا ہے۔ لِنڈسی کلینسی واقعی شدید پوسٹ پارٹم سائیکوسس میں مبتلا تھی یا نہیں، اور اگر تھی تو کیا اس حالت نے اسے قتل کے لیے قانونی طور پر ذمہ دار ہونے سے آزاد کیا، یہ سوال آنے والے عدالتی فیصلے میں مرکزی حیثیت رکھے گا۔

Related posts