ٹرمپ کی طاقت کے زور پر بات منوانے کی پالیسی کو ایران اور کینیڈا میں بڑے امتحان کا سامنا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی سیاست اور سفارت کاری کی حکمتِ عملی کو ایران اور کینیڈا کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازعات کی صورت میں ایک اہم امتحان کا سامنا ہے۔

امریکی صدر کا موقف رہا ہے کہ ان کا ملک اور ان کی پالیسیاں اتنی مضبوط ہیں کہ اتحادیوں اور حریفوں کو ان کی بات ماننا پڑتی ہے۔ اس پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر مشیر اسٹیفن ملر نے ایک گفتگو میں کہا تھا کہ دنیا قوت اور طاقت کے اصولوں پر چلتی ہے۔ تاہم موجودہ عالمی حالات میں اس نظریے کو شدید چیلنجز درپیش ہیں۔

ایران کے ساتھ چھ ماہ سے جاری تنازع میں امریکی معاشی اور ملٹری دباؤ کے باوجود کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا ہے۔ دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے ایران پر تاریخ کی سخت ترین معاشی پابندیاں اور اقتصادی محاصرہ تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس پالیسی کی تفصیلات بتاتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے کہا کہ امریکا ایران کے عالمی مالیاتی رابطوں پر شدید معاشی حملہ کرنے جا رہا ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ فوری طور پر دیگر ممالک یا اداروں پر ثانوی پابندیاں کیوں نہیں لگائی جا رہیں، تو اسکاٹ بیسینٹ کا کہنا تھا کہ وہ سب کو اپنا رویہ درست کرنے کا موقع دے رہے ہیں اور نہیں چاہتے کہ عالمی مالیاتی نظام کو یکدم نقصان پہنچے۔

سی این این کے مطابق، ایران کی معاشی ناکہ بندی کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار اسی وقت اثر انداز ہو سکتا ہے جب دنیا کے بیشتر ممالک امریکی اقدامات کا ساتھ دیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سابق چیف ماہرِ اقتصادیات کینتھ روگوف نے اس حوالے سے سی این این کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں بنیادی طور پر تبھی کام کرتی ہیں جب آپ کو دنیا کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو، لیکن اگر ایسا نہ ہو تو نتائج حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

سابق سینئر امریکی اہلکار میکس میزلش نے بھی اس بات کی تائید کی کہ اگر تمام عالمی شرکاء ساتھ دیں تو یہ اقدامات موثر ہو سکتے ہیں۔

ایران کے ساتھ ساتھ امریکا اور کینیڈا کے درمیان بھی تجارتی اور سیاسی تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ معاشی تعلقات اور تجارت کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے اور کینیڈا کسی بھی ملک کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر سخت بیانات کے بعد کینیڈا میں شدید ردِعمل دیکھا جا رہا ہے۔ اونٹاریو کے میئر ڈریو ڈلکنز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سرحد پار سے آنے والے ایسے بیانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اونٹاریو کے پریمیئر ڈوگ فورڈ نے بھی امریکی صدر کے سخت لہجے پر سخت تنقید کی جبکہ وائس پریذیڈنٹ جے ڈی وینس نے ایک گفتگو میں کینیڈا سے متعلق بیانات پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کینیڈا اور ایران دونوں کے معاملے میں طویل کشیدگی اور معاشی جنگ کے نتیجے میں خود امریکی معیشت، مارکیٹوں اور صارفین پر اشیائے خورونوش و توانائی کی قیمتوں کی صورت میں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی ملک کی خودمختاری پر بات آئے تو وہاں کے عوام اور قیادت ہر قسم کا دباؤ برداشت کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

Related posts