کرینہ کپور کا ‘میگنم’ سے تعلق، ‘بین ایند جیریز’ کے بانی کی فلسطین سے متعلق اپیل

بولی ووڈ اداکارہ کرینہ کپور خان ایک بار پھر فلسطین سے متعلق عالمی بحث کے تناظر میں توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ بین اینڈ جیریز کے شریک بانی بین کوہن نے اداکارہ سے اپیل کی ہے کہ وہ یونی لیور اور اس کے آئس کریم برانڈ میگنم کے ساتھ اپنی وابستگی پر دوبارہ غور کریں اور فلسطینیوں کے حق میں اپنی آواز کو مزید مؤثر انداز میں استعمال کریں۔

ٹریبیون کے مطابق بین کوہن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کرینہ کپور کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ کرینہ کپور خان ایک دہائی سے زائد عرصے سے یونی لیور کے آئس کریم برانڈ میگنم کے ساتھ وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرینہ ماضی میں بھی فلسطینی بچوں کے خلاف تشدد پر مزمت کر چکی ہیں، تاہم اب انہیں اپنے عوامی اثر و رسوخ کو فلسطینیوں کی حمایت کے لیے مزید نمایاں طور پر استعمال کرنا چاہیے۔

کوہن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یونی لیور نے اسرائیلی حکومت پر ہونے والی تنقید کو دبانے کی کوشش کی ہے۔ یہ الزام کوہن کے مؤقف کا حصہ ہے اور یونی لیور کی جانب سے اس مخصوص دعوے پر کوئی نیا ردعمل اس بیان میں شامل نہیں ہے۔

بین کوہن کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بین اینڈ جیریز اور اس کی سابقہ کارپوریٹ مالک کمپنی یونی لیور کے درمیان برانڈ کی سماجی سرگرمیوں اور آزادی سے متعلق تنازع جاری ہے۔

بین اینڈ جیریز کو 2025 میں یونی لیور کے آئس کریم کاروبار سے الگ کر دیا گیا تھا اور اب یہ برانڈ میگنم آئس کریم کمپنی کی ملکیت ہے۔ تاہم کمپنی کے سماجی اور سیاسی مؤقف سے متعلق پرانے اختلافات اب بھی قانونی اور عوامی بحث کا حصہ ہیں۔

ایک مقدمے میں بین اینڈ جیریز اور اس کے آزاد بورڈ کے بعض ارکان نے یونی لیور پر الزام لگایا تھا کہ اس نے برانڈ کے سماجی مشن میں مداخلت کی۔ یونی لیور نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ 21 اگست کو ایک امریکی جج نے اس مقدمے کے کئی دعوے خارج کر دیے اور قرار دیا کہ آئندہ قانونی کارروائی میں یونی لیور کے بجائے میگنم بنیادی فریق ہوگا۔

اسی پس منظر میں بین کوہن نے کرینہ کپور سے کہا کہ وہ اپنی شہرت اور عوامی مقام کو بین اینڈ جیریز کی آزادی کے تحفظ کی کوششوں کی حمایت کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے اپنے فالوورز سے بھی اپیل کی کہ وہ کرینہ کپور کی توجہ اس معاملے کی جانب دلائیں اور ”بائیکاٹ میگنم“ اور ”فری بین اینڈ جیریز“ جیسے ہیش ٹیگز استعمال کریں۔

بین کوہن غزہ میں جاری جنگ کے حوالے سے پہلے ہی کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ وہ اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کے ناقد ہیں اور اس معاملے کو کاروباری اداروں کی سماجی ذمہ داری سے بھی جوڑتے ہیں۔

ان کی سرگرمیاں صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہیں بلکہ وہ احتجاجی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ اپریل میں امریکی ریاست پنسلوانیا کے علاقے کنگ آف پرشیا میں لاک ہیڈ مارٹن کی ایک تنصیب کے باہر ہونے والے احتجاج کے دوران بھی کوہن سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

کرینہ کپور کو دی جانے والی حالیہ اپیل نے ایک بڑے سوال کو پھر نمایاں کر دیا ہے کہ عالمی شہرت رکھنے والی شخصیات کو اپنے تجارتی معاہدوں اور برانڈ وابستگیوں کے حوالے سے بین الاقوامی سیاسی اور انسانی حقوق کے معاملات پر کس حد تک اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے۔

یہ بحث صرف کرینہ کپور یا میگنم تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں معروف اداکاروں، کھلاڑیوں اور دیگر عوامی شخصیات کے تجارتی معاہدے اس وقت زیادہ توجہ حاصل کرتے ہیں جب متعلقہ کمپنی یا برانڈ کسی متنازع سیاسی یا سماجی معاملے سے منسلک ہو۔ ایک طرف مشہور شخصیات کے پاس لاکھوں لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے کی طاقت ہے، تو دوسری طرف کاروباری معاہدوں اور سیاسی معاملات کو الگ رکھنے کی بحث بھی موجود ہے۔

بین کوہن کے تازہ بیان کے بعد اب توجہ اس بات پر ہے کہ کرینہ کپور اس اپیل پر کوئی ردعمل دیتی ہیں یا نہیں۔ فی الحال ان کی جانب سے اس تازہ مطالبے پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا، تاہم معاملہ ایک بار پھر فلسطین، عالمی برانڈز، کارپوریٹ ذمہ داری اور مشہور شخصیات کے کردار سے متعلق وسیع تر بحث کا حصہ بن چکا ہے۔

Related posts