اسلام آباد کی سرحد یونیورسٹی میں فوجی وردی میں ملبوس شخص کی فائرنگ

اسلام آباد میں واقع سرحد یونیورسٹی کے کیمپس میں طلباء کے احتجاج کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا ہے، جہاں فوجی وردی میں ملبوس ایک شخص کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے۔

طلباء کے مطابق، واقعے کی شروعات اس وقت ہوئی جب یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس اپنے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر جدون خان کے ساتھ ایچ آر مینیجر کے مبینہ تنازع اور نامناسب رویے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

طلباء کا موقف ہے کہ وہ کسی ناگہانی یا بلاوجہ مقصد کے لیے جمع نہیں ہوئے تھے بلکہ اپنے استاد ڈاکٹر جدون خان کے حق میں آواز اٹھا رہے تھے۔

طلباء نے دعویٰ کیا کہ ایچ آر مینیجر، جو کہ ایک خاتون ہیں، انہوں نے ڈاکٹر جدون سے بدسلوکی کی، انہیں دھکا دیا اور ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروانے کی دھمکی دی۔ اس صورتحال پر طلباء ”جسٹس فار سر“ کے نعروں اور پلے کارڈز کے ساتھ کیمپس میں احتجاج کے لیے نکلے۔ اس دوران مبینہ خاتون ایچ آر مینیجر اور مظاہرین کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی، جس کے بعد انہوں نے اپنے شوہر کو بلایا جو کہ ایک آرمی افسر ہیں۔

یونیفارم میں ملبوس مبینہ افسر کے پہنچنے پر صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی اور دونوں اطراف سے ہاتھا پائی کے بعد افسر نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے اپنے پستول سے ہوائی فائرنگ کی۔ اس دوران پولیس کو بیچ بچاؤ کراتے بھی دیکھا گیا۔

سینیئر صحافی حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک فوج نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ افسر کو حراست میں لے لیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے ایک افسر نے موقع پر پہنچ کر طلباء کو افسر کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔

کیمپس میں موجود طلباء کا موقف ہے کہ وہ اپنے استاد پر مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات اور دھمکیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے اور انہوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

Related posts