بھارت: اسپتال میں وینٹی لیٹر پھٹنے سے 3 نوزائیدہ بچے جاں بحق
بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ضلع امراوتی کے ایک سرکاری اسپتال کے خصوصی نوزائیدہ نگہداشت یونٹ میں آج صبح وینٹی لیٹر دھماکے سے پھٹ گیا اس کے ساتھ آگ بھڑک اٹھی۔ جس کے باعث تین نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ حادثے کے وقت وارڈ میں 39 بچے زیرِ علاج تھے۔
آگ کے بعد اسپتال میں فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی گئی اور ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر عملے نے بچوں کو متاثرہ حصے سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
یہ واقعہ صبح تقریباً ساڑھے تین بجے اسپتال کی تیسری منزل پر پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ ایک وینٹی لیٹر میں دھماکے کے بعد لگی۔ آگ اور دھوئیں کی زد میں آنے والے تین نومولود شدید جھلس گئے اوران کی موت ہوگئی۔
پولیس کمشنر کے مطابق اسپتال کے اسپیشل نیوبورن کیئر یونٹ میں اس وقت 39 بچے داخل تھے۔ اس یونٹ میں تین حصے ہیں، ایک حصے میں اسپتال میں پیدا ہونے والے بچے، دوسرے میں باہر سے لائے گئے نومولود اور تیسرے حصے میں وہ بچے رکھے جاتے ہیں جو صحت یاب ہونے کے بعد گھر جانے کے قریب ہوتے ہیں۔
آگ لگنے کے فوراً بعد اسپتال کا عملہ حرکت میں آگیا۔ ڈاکٹروں اور نرسوں نے بچوں کو ایک ایک کرکے متاثرہ مقام سے باہر نکالا۔ اس دوران کئی بچوں کو ان کی زندگی بچانے والے طبی آلات سے عارضی طور پر الگ کرکے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ امدادی کارروائی کے دوران 6 ایسے نومولود تھے جن کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان بچوں کی حالت زیادہ تشویش ناک بتائی جارہی ہے، تاہم دوسرے اسپتال میں علاج جاری ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے۔ حکام نے اسپتال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے اس معاملے میں اعلیٰ سطحی انکوائری کا اعلان بھی کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ حفاظتی انتظامات میں کہیں غفلت یا انتظامی کوتاہی تو نہیں ہوئی۔
حادثے کے بعد اسپتال کی عمارت اور وہاں موجود طبی و فائر سیفٹی انتظامات بھی سوالات کی زد میں آگئے ہیں۔ حکام کی جانب سے یہ جانچ کی جارہی ہے کہ آگ کیسے لگی، اسے روکنے کے لیے کیا انتظامات موجود تھے اور ہنگامی صورتحال میں بچوں کو نکالنے کا نظام کس حد تک مؤثر تھا۔

امراوتی کے حکومتی عہدے داران اور وزراء نے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والے بچوں کے والدین کے لیے صبر کی دعا بھی کی۔
اپوزیشن کی ایک رکنِ پارلیمنٹ نے بھی واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حادثے کی ذمہ داری طے کی جانی چاہیے اور اگر کسی کی غفلت سامنے آئے تو سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں فائر سیفٹی اور طبی آلات کی حفاظت کے خصوصی آڈٹ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
آگ لگنے کی اصل وجہ، فائر سیفٹی نظام کی صورتحال اور ممکنہ انتظامی غفلت کے بارے میں حتمی بات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔ فی الحال پولیس اور انتظامیہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہے کہ آخر وینٹی لیٹر بلاسٹ کیسے ہوا۔