امریکا میں پناہ کی درخواست دینے والے افراد کے ویزے منسوخ کیے جانے کا امکان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایسے افراد کے 2 لاکھ تک کاروباری اور سیاحتی ویزے منسوخ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جنہوں نے امریکا پہنچنے کے بعد ملک میں رہنے کے لیے پناہ کی درخواست دی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ اقدام ویزے منسوخ کرنے کی امریکی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی ہو سکتی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف قانونی کارروائی بھی متوقع ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکام اس معاملے پر محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسے غیر ملکیوں کے غیر تارکینِ وطن ویزے منسوخ کرنے کے لیے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ساتھ رابطے میں ہیں جو مختصر مدت کے لیے امریکا آنے کا دعویٰ کرکے یہاں آئے، لیکن بعد میں مستقل طور پر رہنے کے لیے پناہ کی درخواست دے دی۔

ٹومی پیگوٹ نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے افراد کے ویزے منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل مسلسل جاری رہے گا، اس لیے ویزے منسوخ کیے جانے والوں کی تعداد میں تبدیلی ممکن ہے اور کارروائی مرحلہ وار کی جائے گی۔

امریکی حکام کے مطابق اس کا مقصد ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے جنہوں نے سیاحت یا کاروبار کے لیے امریکا کا ویزا حاصل کیا، لیکن بعد میں ملک میں طویل عرصے تک رہنے کے لیے پناہ کی درخواست دے دی۔

محکمہ خارجہ اور امریکی شہریت و امیگریشن سروسز نے اس معاملے پر مزید وضاحت کے لیے درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری مدتِ صدارت میں امیگریشن پالیسی کو اہم ترجیح بنایا ہوا ہے۔ ان کی انتظامیہ غیر قانونی طور پر امریکا میں موجود افراد کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ مختلف وجوہات کی بنیاد پر غیر ملکیوں کے ویزے بھی منسوخ کر رہی ہے۔

گزشتہ برس امریکی انتظامیہ نے امریکا کے 5 کروڑ 50 لاکھ سے زائد ویزا رکھنے والوں کی مسلسل جانچ کا عمل بھی شروع کیا تھا۔ اس جانچ کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا کوئی ویزا ہولڈر ایسے قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا جس کی بنیاد پر اس کا ویزا منسوخ یا اسے ملک بدر کیا جا سکتا ہو۔

اگر موجودہ منصوبے کے تحت 2 لاکھ تک ویزے منسوخ کیے جاتے ہیں تو یہ امریکا میں ایک غیر معمولی پیمانے کی کارروائی ہوگی، جس کے نتیجے میں متاثرہ افراد کی جانب سے عدالتوں سے رجوع کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Related posts