انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں بابر اعظم کی واپسی کے امکانات روشن

پاکستان کے کپتان بابر اعظم انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میں قومی ٹیم میں واپسی کے لیے تیار ہیں۔ بولنگ کوچ عمر گل کے مطابق انگلی کی انجری سے صحت یابی کے بعد بابر اعظم نے بھرپور بیٹنگ پریکٹس کی اور وہ نیٹ میں فاسٹ بولرز اور اسپنرز سامنا کرتے ہوئے اچھی فارم میں نظر آئے۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ سے 2 روز قبل قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے پریکٹس سیشن میں بھرپور حصہ لیا، جس کے بعد ان کی ٹیم میں واپسی کے امکانات تقریباً یقینی ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے بولنگ کوچ عمر گل نے بتایا کہ بابر اعظم نے نیٹ میں مکمل بیٹنگ سیشن کیا اور فاسٹ بولرز، اسپنرز اور تھرو ڈاؤنز کا سامنا کیا۔

عمر گل کے مطابق بابر اعظم پریکٹس کے دوران اچھے نظر آئے اور انہوں نے اچھی بیٹنگ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کو امید ہے کہ بابر لارڈز ٹیسٹ کے لیے دستیاب ہوں گے۔

بابر اعظم کی انگلی میں انجری ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے دوران ہوئی تھی، جس کے بعد بیکنہم میں پاکستان کے پریکٹس میچ کے دوران انگلی پر دوبارہ گیند لگنے سے انجری مزید بڑھ گئی تھی۔

بابر اعظم کی واپسی پاکستان کی بیٹنگ کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے۔ ہیڈنگلے میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی بیٹنگ انتہائی مشکلات کا شکار رہی اور انگلینڈ نے 86 اوورز سے بھی کم میں پاکستان کو دونوں اننگز میں آؤٹ کردیا تھا۔

اس سے قبل ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں بابر اعظم پاکستان کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹر رہے تھے۔ انہوں نے دو نصف سنچریوں کی مدد سے 193 رنز بنائے تھے۔

بابر اعظم کی واپسی کی صورت میں وہ پاکستان کی قیادت بھی سنبھالیں گے۔ انہیں ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز سے قبل دوبارہ قومی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا۔

انگلینڈ میں یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ بابر اعظم بطور کپتان پاکستانی ٹیم کی قیادت کریں گے، انہیں پہلی مرتبہ 2020 کے دورہ انگلینڈ کے بعد قومی ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا۔

بابر اعظم کی واپسی کے بعد پاکستان کی ابتدائی بیٹنگ لائن میں بھی تبدیلی متوقع ہے، امکان ہے کہ اذان اویس کو ٹیم سے باہر ہونا پڑے جب کہ شان مسعود یا عبداللہ شفیق میں سے کسی ایک کو اوپننگ کے لیے بھیجا جائے گا اور بابر اعظم نمبر 4 پر بیٹنگ کریں گے۔

بابر اعظم نے انگلینڈ میں اب تک 6 اننگز میں 3 نصف سنچریاں اسکور کی ہیں اور ان کی اوسط 65.75 رہی ہے۔ انگلینڈ کے خلاف مجموعی طور پر 14 اننگز میں بابر اعظم کی بیٹنگ اوسط 53.83 ہے، وہ انگلینڈ کے خلاف اپنی نصف اننگز میں ففٹی یا سنچری بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔

بولنگ کوچ عمر گل نے کہا کہ پاکستان کو صرف بابر اعظم کی واپسی پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ پہلے ٹیسٹ کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے ٹیم کے تمام شعبوں میں کارکردگی دکھانا ضروری ہے اور ایک شعبہ دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔

عمر گل کے مطابق انگلینڈ کے موجودہ حالات میں بولرز کی ذمہ داری زیادہ ہے کیونکہ ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے حریف ٹیم کی 20 وکٹیں حاصل کرنا ضروری ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ قومی ٹیم کے کھلاڑیوں نے پریکٹس میں بھرپور شدت کا مظاہرہ کیا اور انہیں امید ہے کہ ٹیم لارڈز میں پہلے ٹیسٹ کی شکست کے بعد بھرپور واپسی کرے گی۔

Related posts