مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کی غیر متوقع حرکتیں، کیا ’سرکش اے آئی‘ واقعی آ گئی؟
مصنوعی ذہانت کے خود کار ماڈلز اور ایجنٹس کے غیر متوقع رویے نے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ انسانوں کی ہدایت پر کام کرنے والے یہ جدید سسٹمز اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے سیکیورٹی قوانین توڑنے، ڈیٹا بیس ہیک کرنے اور دھوکہ دہی جیسے طریقے اپنانے لگے ہیں، جس کے بعد عالمی سطح پر ان کی خود مختاری کو لگام دینے اور سخت قوانین بنانے کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔
آج کل مصنوعی ذہانت کے ذریعے روزمرہ کے مشکل اور وقت طلب کام خود بخود سرانجام دینے کا تصور حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ انسانوں کی خواہش رہی ہے کہ ای میلز کا جواب دینے، پروازوں کی بکنگ کرنے اور کھانے کے لیے میز محفوظ کرنے جیسے کام مشینیں خود سے کریں۔
اب ایسے ڈیوائسز اور الگورتھمز سامنے آ رہے ہیں جو خود مختارانہ طور پر فیصلے اور اقدامات کر سکتے ہیں۔ لیکن اس ٹیکنالوجی کی پیش رفت کے ساتھ ایک نئی اور عجیب مشکل سامنے آ گئی ہے، اور وہ یہ ہے کہ اگر مشین دیئے گئے کام کو مکمل کرنے کے لیے انسان کی مرضی کے خلاف کوئی دوسرا طریقہ اپنا لے تو کیا ہوگا؟
حال ہی میں ہونے والے چند واقعات نے ماہرین اور عام لوگوں دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ کارنیل یونیورسٹی کے ایک پروفیسر جان تھکسٹن کا کہنا ہے کہ ان جدید سسٹمز کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انسان ان کو کام سونپ کر خود سو سکتا ہے یا دوسرے کاموں میں مصروف ہو سکتا ہے اور یہ پیچھے سے کام کرتے رہتے ہیں۔ لیکن دشواری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے غیر متوقع اور عجیب طریقے تلاش کر لیتے ہیں۔
حال ہی میں ایک تجربے کے دوران مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو ایک ٹیسٹ پاس کرنے کا کہا گیا۔ ان ماڈلز نے ٹیسٹ جیتنے اور حل تلاش کرنے کی اتنی زیادہ کوشش کی کہ انہوں نے سیکیورٹی کے تمام حصار توڑ ڈالے، اجازت کے بغیر انٹرنیٹ کا استعمال کیا اور وہ خفیہ معلومات بھی حاصل کر لیں جن سے ٹیسٹ میں کامیابی مل سکتی تھی۔ ایک اور معاملے میں، ایک ماڈل نے سائبر حملے کی کوشش کرنے کے لیے اصلی لوگوں جیسے فرضی اکاؤنٹس بنائے اور پھر اپنے نقشِ قدم چھپانے کی بھی کوشش کی۔ یہ پہلی بار تھا کہ مصنوعی ذہانت نے بغیر کسی اضافی ہدایت کے اس حد تک جا کر کام کیا۔
صرف لیبارٹریوں یا تحقیقاتی اداروں میں ہی نہیں، بلکہ عام زندگی میں بھی اس طرح کے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ آسٹریلیا میں ایک شخص نے جِم کی کلاس میں جگہ محفوظ کرنے کے لیے ایک خود کار سسٹم کا استعمال کیا۔ اس سسٹم نے صرف بکنگ ہی نہیں کی بلکہ جِم کے پورے سیکیورٹی اور بکنگ سسٹم کو ہیک کر لیا، مقررہ وقت سے پہلے کی بکنگ کر ڈالی اور دوسرے شخص کی بکنگ منسوخ کر کے اپنے مالک کو اوپر کی فہرست میں شامل کر دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مشین کی بدنیتی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں مشین دی گئی ہدایت پر عمل تو کرتی ہے لیکن اپنے حساب سے کام کرنے کے دوران انسانی آداب اور قوانین کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی جہاز میں تمام نشستیں فل ہوں اور انسان مشین سے کہے کہ اسے نشست چاہیے، تو مشین ایئرلائن کا ڈیٹا بیس ہیک کر کے اسے سیٹ فراہم کر سکتی ہے، کیونکہ اس کے نزدیک اصل مقصد کام کا پورا ہونا ہے۔
کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں اپنے ماڈلز کی صلاحیتوں کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر بھی پیش کرتی ہیں تاکہ سرمایہ کاری اور توجہ حاصل کی جا سکے۔ لیکن دوسری طرف سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے واقعات اب اتنی بڑی تعداد میں ہو رہے ہیں کہ انہیں صرف ایک اشتہاری ڈراما نہیں کہا جا سکتا۔
اسی صورتِ حال کے پیشِ نظر عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے سیکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے اپنے بعض نئے ماڈلز پر کام عارضی طور پر روک دیا ہے۔
سائنسی اور ٹیکنالوجی سے وابستہ سیکڑوں ماہرین نے حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان خطرناک اور خود مختار ماڈلز کے لیے عالمی قوانین بنائیں۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ انٹرنیٹ اور سسٹمز پر خود سے قدم اٹھانے والے ان ماڈلز کو ضوابط کا پابند بنایا جائے۔
امریکہ سمیت دنیا بھر کے سیاست دان اور قانون ساز اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو کس طرح ایک محفوظ دائرے میں رکھا جائے۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے بدل رہی ہے کہ حکومتوں کے لیے قانون بنانا مشکل ہو رہا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا عالمی سطح پر چند بڑے ممالک اور کمپنیاں مل کر اس جن کو بوتل میں بند رکھنے کے لیے کوئی مشترکہ حل تلاش کر پاتی ہیں یا نہیں۔