پمز سانحہ: ایک روز بعد بھی آگ لگنے کی وجہ اور ذمہ داروں کا تعین نہ ہوسکا
اسلام آباد کے پمز اسپتال کے زچہ بچہ وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی سے 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کو 24 گھنٹے سے زائد گزر گئے، تاہم آگ لگنے کی حتمی وجہ اور سانحے کے ذمہ داروں کا تعین تاحال نہیں ہوسکا۔ واقعے سے متعلق مختلف رپورٹس اور حکام کے بیانات میں الگ الگ وجوہات سامنے آئی ہیں، جبکہ وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔
پمز اسپتال کے زچہ بچہ وارڈ میں آگ کیسے لگی اور نرسری میں آگ اتنی تیزی سے کیسے پھیلی؟ آکسیجن پائپ لائن میں حفاظتی والو کیوں نہیں تھے، وارڈ میں کون سا آتش گیر مواد موجود تھا اور ہنگامی صورت حال کے باوجود نرسری کے ایمرجنسی راستے اور دروازے کیوں بند تھے؟ یہ سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔
ریسکیو ٹیموں کے پہنچنے کے وقت اور امدادی کارروائی سے متعلق بھی سوالات سامنے آئے ہیں، جبکہ سیکیورٹی عملے کی جانب سے امدادی کارروائی میں مبینہ رکاوٹ کا معاملہ بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔
سانحے کے بعد ڈائریکٹوریٹ آف ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ابتدائی رپورٹ میں آتشزدگی کی وجہ شارٹ سرکٹ اور پلگ اوورلوڈ کو قرار دیا گیا۔
دوسری جانب پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ میں ایئر کنڈیشن کے کمپریسر پھٹنے اور الیکٹرک شارٹ سرکٹ سے آگ لگنے کی تردید کی گئی۔ انتظامیہ کے مطابق انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار جانچنے والا نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بدھ کے روز پمز اسپتال کادورہ کرتے ہوئے واقعے سے متعلق حتمی وجہ نہیں بتائی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر چھت سے چنگاری گری، جس کی فوٹیج موجود ہے۔
ادھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت بھی معاملے پر متحرک ہوگئی ہے اور پیر کو ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر صحت اور دیگر متعلقہ حکام کو طلب کرلیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے سربراہ مہیش کمار بھی سانحے کے 24 گھنٹے سے زائد گزرنے کے بعد پمز پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال کے عملے کو بھی آگ لگنے کی وجوہات کا علم نہیں اور عملہ الگ الگ بیانات دے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑا افسر ہو یا چھوٹا، حقائق سامنے لائے جائیں۔
قائمہ کمیٹی کے بعض ارکان نے میرٹ پر انکوائری کے لیے وفاقی وزیر صحت اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے فوری استعفوں کا مطالبہ بھی کیا۔
دوسری جانب وزیراعظم کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ کمیٹی کے سربراہ شاہد خان نے رات گئے پمز پہنچ کر زچہ بچہ وارڈ کا دورہ کیا، جبکہ مختلف شعبوں میں تعینات 30 سے زائد ملازمین کے بیانات ریکارڈ کیے جاچکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی نے پمز ہیلتھ مینجمنٹ کے عملے سے بھی پوچھ گچھ کی اور متعلقہ ملازمین سے واقعے سے متعلق تحریری بیانات طلب کیے۔ انکوائری ٹیم نے پمز میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ، دستیاب ریکارڈ اور دیگر شواہد کا بھی جائزہ لیا۔
کمیٹی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز اور جوائنٹ ڈائریکٹر کے بیانات بھی ریکارڈ کیے، جبکہ پمز انتظامیہ کی جانب سے الیکٹرک میڈیکل رپورٹ بھی تحقیقاتی کمیٹی کو فراہم کردی گئی ہے۔ نرسری اسٹاف کا ڈیوٹی روسٹر بھی چیک کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ایم سی ایچ وارڈ میں تعینات 18 سیکیورٹی گارڈز کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے اور ان سے واقعے کے وقت کی صورتحال، ڈیوٹی اور انتظامات سے متعلق سوالات کیے گئے۔
وفاقی سیکریٹری صحت کا اضافی چارج سنبھالنے والے کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود نے بھی پمز اسپتال کا دورہ کیا۔
سانحے کے 24 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود آتشزدگی کی حتمی وجہ اور 14 نومولود بچوں کی موت کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوسکا، جبکہ تحقیقاتی کمیٹی کی حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔