بچوں میں سوشل میڈیا کی بڑھتی لت، میٹا 18 ارب ڈالر ادا کرے گا
فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے امریکا کی تقریباً تمام ریاستوں کے ساتھ بچوں اور نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے مبینہ منفی اثرات سے متعلق مقدمات ختم کرنے کے لیے اگلے 10 برسوں میں 18 ارب ڈالر تک ادا کرنے اور نوعمر صارفین کے لیے استعمال کی نئی پابندیاں نافذ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ تصفیہ ان الزامات کے بعد سامنے آیا ہے کہ میٹا نے اپنی سوشل میڈیا سروسز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا جس سے بچے اور نوجوان ان کے عادی ہوتے گئے، جبکہ کمپنی نے پلیٹ فارمز کی حفاظت کے بارے میں عوام کو گمراہ کیا۔ ان مقدمات میں یہ بھی الزام تھا کہ سوشل میڈیا کے استعمال سے بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا۔
تصفیے کے تحت میٹا نوعمر صارفین کے فیس بک اور انسٹاگرام استعمال کو روزانہ زیادہ سے زیادہ دو گھنٹے تک محدود کرے گی۔
والدین کی اجازت نہ ہونے کی صورت میں رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک نوعمروں کے لیے ان پلیٹ فارمز کا استعمال بند ہوگا۔ کمپنی اسکول کے اوقات، یعنی صبح 8 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک، نوعمر صارفین کو زیادہ تر پش نوٹیفکیشنز بھی نہیں بھیجے گی۔
کمپنی بچوں کی جانب سے عمر کی پابندی والے مواد تک رسائی روکنے کے لیے بھی اقدامات مزید سخت کرے گی۔ اگر اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب بھی اسی نوعیت کی پابندیاں نافذ کرتے ہیں تو میٹا پر عائد بعض شرائط مزید سخت کی جا سکتی ہیں۔
تاہم تصفیے میں میٹا کو ذاتی پسند کے مطابق مواد تجویز کرنے یا صارفین کو ہدف بنا کر اشتہارات دکھانے کا نظام ختم کرنے کا پابند نہیں کیا گیا۔ اسی طرح ایسے بعض مواد پر بھی براہ راست پابندی نہیں لگائی گئی جس کے بارے میں کمپنی کے اپنے محققین نے نوجوانوں کے لیے مسائل پیدا کرنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا، جن میں جسمانی شکل کے بارے میں منفی سوچ پیدا کرنے والی پوسٹس بھی شامل ہیں۔
میٹا نے تصفیہ کرتے ہوئے کسی غلطی یا قانونی خلاف ورزی کا اعتراف نہیں کیا۔ کمپنی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو اپنے پلیٹ فارمز پر محفوظ اور مفید تجربہ فراہم کرنا اس کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
تصفیے کے تحت 47 امریکی ریاستوں، واشنگٹن ڈی سی اور بعض امریکی علاقوں کو مجموعی طور پر تقریباً 16.7 ارب ڈالر تک ادا کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں کیلیفورنیا کو تقریباً 2.2 ارب ڈالر اور نیویارک کو تقریباً 1.1 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔ ٹیکساس پہلے ہی ایک الگ معاہدے کے تحت ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم حاصل کرنے پر اتفاق کر چکا ہے۔
مجموعی رقم میں تقریباً 12.7 ارب ڈالر کی ادائیگی یقینی ہے، جبکہ مزید تقریباً 5 ارب ڈالر اس بات سے مشروط ہیں کہ اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب بھی بچوں کے تحفظ کے لیے اسی طرح کے اقدامات کرتے ہیں یا نہیں۔ بعض ریاستیں اس رقم کو عمومی سرکاری اخراجات میں شامل کریں گی، جبکہ کچھ ریاستیں اس کا ایک حصہ بچوں کی ذہنی صحت سے متعلق پروگراموں کے لیے مختص کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
امریکی وفاقی عدالت کے جج یُون گونزالیز راجرز نے مرکزی تصفیے کی منظوری دے دی۔ انہوں نے مقدمے کی سماعت کی نگرانی کی تھی، جو 18 اگست کو شروع ہوئی تھی۔ تصفیے کے بعد انہوں نے اسے بچوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
یہ مقدمات اس وقت ختم ہوئے جب میٹا کے انسٹاگرام سربراہ ایڈم موسری گواہی دے رہے تھے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ سے بھی گواہی لیے جانے کی توقع تھی۔
ریاستوں کی جانب سے میٹا پر صارفین کو گمراہ کرنے کے علاوہ بچوں کی آن لائن پرائیویسی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔ 29 ریاستوں کا دعویٰ تھا کہ کمپنی نے والدین کی اجازت کے بغیر بچوں کا ذاتی ڈیٹا حاصل کیا اور اسے مصنوعی ذہانت کے نظام کی تربیت کے لیے استعمال کیا۔
میٹا طویل عرصے سے ان الزامات کی مخالفت کرتی رہی ہے اور اس کا مؤقف تھا کہ ’’سوشل میڈیا کی لت‘‘ ایک تسلیم شدہ نفسیاتی بیماری نہیں، اس لیے کمپنی پر صارفین کو اس حوالے سے گمراہ کرنے کا الزام درست نہیں۔
تصفیے کے باوجود میٹا کو بچوں اور نوجوانوں سے متعلق تمام قانونی کارروائیوں سے نجات نہیں ملی۔ مختلف افراد، اسکول اضلاع، شہروں اور دیگر سرکاری اداروں کی جانب سے کمپنی کے خلاف اب بھی ہزاروں مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ان مقدمات میں الزام ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں نے جان بوجھ کر بچوں کو اپنے پلیٹ فارمز کا عادی بنایا اور اس کے نتیجے میں ذہنی صحت کے مسائل میں اضافہ ہوا۔
نئی میکسیکو ریاست اس تازہ تصفیے کا حصہ نہیں بنی۔ وہاں ایک عدالت نے رواں ماہ میٹا کو 56 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ادا کرنے اور بچوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا۔ مارچ میں اسی ریاست کے ایک مقدمے میں جیوری نے کمپنی کو 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
فلوریڈا نے بھی معاہدہ قبول نہیں کیا اور میٹا کے خلاف قانونی کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کے اٹارنی جنرل جیمز یوتھمائر نے کہا کہ ریاستوں کو ملنے والی رقم بچوں کو پہنچنے والے گہرے نقصانات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم اس معاملے میں عدالت میں میٹا کا سامنا کریں گے‘۔