آبنائے ہرمز کا نام ‘آبنائے ٹرمپ’ رکھا جائے؛ امریکی صدر کی خواہش پھر جاگ گئی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی اہم ترین آبی گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کا نام ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ایران نے جنگ کے آغاز سے ہی آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جب کہ امریکا اس پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا لیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر سوالیہ انداز میں جاری پیغام میں کہا ’اب جب کہ آبنائے ہرمز امریکا کے کنٹرول میں ہے تو کیا ہمیں اس کا نام تبدیل کر کے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ نہیں رکھ دینا چاہیے؟‘

یہ پہلا موقع نہیں جب امریکی صدر نے کسی بین الاقوامی جغرافیائی مقام کا نام تبدیل کرنے کی بات کی ہو۔ محض ایک ہفتہ قبل کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ کے دوران انہوں نے ’لیک اونٹاریو‘ کا نام ’لیک امریکا‘ رکھنے کا حکم دیا تھا۔
اس سے قبل جنوری 2025 میں اقتدار میں واپسی کے پہلے روز ہی انہوں نے ’خلیج میکسیکو‘ کو ’خلیج امریکا‘ کا نام دے دیا تھا۔ واضح رہے کہ کینیڈا اور میکسیکو دونوں نے ان مقامات کے ناموں کی تبدیلی کو یکسر مسترد کیا ہے۔
صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کر کے ’ٹرمپ اسٹریٹ‘ رکھنے کی خواہش کا اظہار پہلے بھی کئی بار کر چکے ہیں۔ انہوں نے پہلی بار مارچ 2026 میں فلوریڈا میں تقریر کرتے ہوئے مذاقاً آبنائے ہرمز کو ”اسٹریٹ آف ٹرمپ“ کہا تھا۔
اس وقت ہال میں موجود لوگ ہنس پڑے تھے لیکن ٹرمپ نے کہا تھا کہ میڈیا اسے میری ’زبان کا پھسلنا‘ کہے گا مگر میں غلطیاں نہیں کرتا۔ کچھ ہی عرصے بعد اپریل میں انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک نقشہ بھی پوسٹ کیا، جس میں آبنائے ہرمز کی جگہ ”ٹرمپ اسٹریٹ“ لکھا ہوا تھا۔
حالیہ دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز پر امریکی خودمختاری کے دعوے میں شدت آئی ہے، حتیٰ کہ انہوں نے ایک نقشہ بھی پوسٹ کیا تھا جس میں اس گزرگاہ کو ”امریکا کا نیا علاقہ“ قرار دیا تھا۔
تاہم زمینی حقائق کے مطابق فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے جواب میں ایران نے ’آبنائے ہرمز‘ کو بند کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ دنیا بھر کی تیل کی مجموعی ترسیل کا پانچواں حصہ اسی گزرگاہ سے ہوتا ہے۔
منگل کے روز امریکی فورسز کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب کیے گئے تازہ حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ رہی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ امریکی کارروائی ایران کی جانب سے سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی نئی کوششوں کے جواب میں کی گئی ہے۔