‘یہ جنگ نہیں ہے’: پینٹاگون کا ایران جنگ میں ہلاک امریکی فوجیوں کو مراعات دینے سے انکار

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کے اہلِ خانہ اور پینٹاگون کے درمیان اضافی مراعات اور مالی امداد کے حوالے سے شدید اختلافات اور تحفظات سامنے آئے ہیں۔

برطانوی اخبار ’دی ٹیلیگراف‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون نے ہلاک امریکی فوجیوں کو اضافی مراعات دینے سے انکار کرتے ہوئے عذر پیش کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جھڑپیں جنگ نہیں ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا جب مارچ کے مہینے میں عراق کے مغرب میں حادثے کے شکار ایندھن فراہم کرنے والے طیارے کے پائلٹ میجر الیکس کلینر کی بیوہ لیبی کلینر نے ایک بیان جاری کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی فضائیہ نے باضابطہ جنگ کا اعلان نہ ہونے کو بنیاد بنا کر انہیں اضافی فوائد دینے سے انکار کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ پینٹاگون کے مطابق، ایران کے ساتھ ’تنازع‘ میں پچھلے چھ ماہ میں 18 امریکی فوجی ہلاک اور 780 زخمی ہو چکے ہیں۔

اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لیبی کلینر نے خبر رساں ادارے ’دی ٹیلیگراف‘ سے بات چیت میں کہا کہ میرے شوہر نے ایک جنگ میں اپنی جان گنوائی، لیکن بعد میں مجھے بتایا گیا کہ یہ تکنیکی طور پر جنگ نہیں ہے اس لیے ہم حقوق سے محروم رہ جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تجربے نے مجھے دکھایا کہ ایک غمزدہ خاندان کے لیے حکومتی اصطلاحات اور پیچیدہ کارروائیوں کو سمجھنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکس اپنے کام کے خطرات سے واقف تھے اور انہیں بھروسہ تھا کہ ان کے بعد ان کے خاندان کا خیال رکھا جائے گا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل سامنے آنے کے بعد امریکی فضائیہ نے تسلیم کیا کہ ابتدائی طور پر غلط معلومات دی گئی تھیں اور کہا کہ میجر کی آخری تنخواہ میں خطرناک ڈیوٹی کا الاؤنس شامل کر دیا گیا ہے۔

سیاسی سطح پر اس مسئلے نے اس وقت نئی بحث چھیڑ دی جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے وائٹ ہاؤس کی بریفنگ میں اس بارے میں پوچھا گیا۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ ہم متاثرہ خاتون کی ہر ممکن مدد کرنا چاہتے ہیں اور ان کا پیغام ہے کہ ہم ان کی قربانی کی قدر کرتے ہیں اور ان کے تمام حقوق کی فراہمی کے لیے پرعزم ہیں۔

تاہم وینس نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے لفظ جنگ کے استعمال کو مسترد کر دیا۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وضاحت کی اور کہا کہ بہت سے لوگ اسے جنگ نہیں کہتے، میں اسے ایک عسکری تنازع کہتا ہوں کیونکہ یہ ہمارے لیے ایک محدود نوعیت کا معاملہ ہے۔

پینٹاگون نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کی مسلسل دیکھ بھال کی یقین دہانی کرائی ہے۔

Related posts