این سی سی آئی اے نے میر رضا کے کرپٹو کرنسی اثاثوں کا ڈیٹا حاصل کر لیا

کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مقتول کا کرپٹو کرنسی ڈیٹا حاصل کر لیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق کرپٹو ایجنسی سے میر رضا کا چھ ماہ کا کرپٹو ڈیٹا مانگا گیا تھا جو اب حاصل کر کے تحقیقاتی کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن کو بھی جمع کروا دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈیٹا کی تفصیلی معلومات کو سادہ الفاظ میں ڈی کوڈ کر کے فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اس کا تجزیہ کر کے یہ معلوم کیا جا سکے کہ روزانہ کی بنیاد پر کتنی ٹرانزیکشنز ہو رہی تھیں اور کیا کسی مالی تنازع کا اس واقعے سے تعلق ہے۔

اس کیس کی سماعت کرنے والے جوڈیشل کمیشن اور پولیس کی جانب سے کرپٹو ٹریڈنگ اور مالی لین دین کے پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

میر رضا کے کاروباری ساتھی احمد بھردے نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے اپنا بیان دیتے ہوئے بتایا تھا کہ میر رضا بیس سے تیس لاکھ روپے مالیت کی کرپٹو ٹریڈنگ میں ملوث تھے اور انہیں اس کام میں نقصان بھی ہوا تھا۔

اس کے علاوہ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے دیگر انکشافات کے مطابق میر رضا اپنے آخری دنوں میں کرپٹو مارکیٹ کے نفع اور نقصان کی وجہ سے کافی پریشان تھے اور وہ اس معاملے میں مجتبیٰ نامی ایک شخص سے بھی مسلسل رابطے میں تھے۔

این سی سی آئی اے کی جانب سے بائنانس اور کرپٹو سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا بنیادی مقصد اس بات کا سراغ لگانا ہے کہ آیا کسی مالی لین دین، بھاری نقصان یا خرد برد نے اس ہلاکت اور اغوا میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔

جوڈیشل کمیشن اس نقطے کی باقاعدہ جانچ کر رہا ہے تاکہ معاملے کے تمام چھپے ہوئے حقائق سامنے آ سکیں۔

پولیس اور دیگر تحقیقاتی ادارے ڈیٹا کا تکنیکی تجزیہ مکمل کرنے میں مصروف ہیں تاکہ مقتول کے قتل کی اصل وجوہات اور اس میں ملوث عناصر تک پہنچا جا سکے۔

Related posts