جنوبی کوریا کا ایران جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے سے انکار
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف امریکی جنگ میں فوجی طور پر شامل نہیں ہوگا۔ صدر لی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایسی کوئی فوجی تعیناتی نہیں کی جائے گی جس سے جنوبی کوریا براہِ راست جنگ کا حصہ بن جائے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحادی ممالک سے ایران کے خلاف جنگ میں تعاون کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
صدر لی نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جنوبی کوریا کی فوج کی ایسی کوئی تعیناتی نہیں ہوگی جس میں ملک جنگ میں شامل ہو یا جنگی کارروائی کا حصہ بنے۔ ان کے مطابق جنوبی کوریا اس مقصد کے لیے کسی بھی شکل میں فوجی وسائل تعینات نہیں کرے گا۔
تاہم صدر لی نے یہ بھی کہا کہ جنوبی کوریا خطے میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اپنا کردار بڑھانے کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے لیے ضروری ہے کہ وہ دیگر ممالک کی طرح اپنے تجارتی جہازوں، خام تیل کی ترسیل اور خطے میں موجود جنوبی کوریائی شہریوں کی حفاظت کے لیے کم سے کم ضروری اقدامات کرے۔
جنوبی کوریا پہلے ہی صومالیہ کے ساحل کے قریب بحریہ کی موجودگی رکھتا ہے، جہاں اس کے فوجی قزاقی کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ تاہم صدر لی کے بیان سے واضح ہوگیا ہے کہ اس بحری موجودگی کو ایران کے خلاف جنگ میں براہ راست فوجی شرکت کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں محدود تعاون پر تنقید کر چکے ہیں۔ امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی تعاون پہلے ہی خطے میں اہم حیثیت رکھتا ہے، تاہم دونوں ممالک کی افواج کی موسم گرما میں ہونے والی بڑی مشترکہ مشقوں میں کمی نے بھی اتحادی تعلقات کے حوالے سے سوالات پیدا کیے تھے۔
جنوبی کوریا کی حکومت آبنائے ہرمز میں ممکنہ فوجی یا بحری کردار ادا کرنے کے معاملے پر بھی غور کر رہی تھی۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے اور عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ تاہم جنوبی کوریا میں ایران کے خلاف جنگ کے تناظر میں فوجی تعیناتی کی تجویز کو عوامی سطح پر زیادہ حمایت حاصل نہیں ہو رہی۔
دوسری جانب امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے معاملات پر بھی مذاکرات جاری ہیں۔ صدر لی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان امریکی سرمایہ کاری سے متعلق معاہدے میں بنیادی مسئلہ اس پیکیج کی تجارتی اور معاشی افادیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ شرائط جنوبی کوریا کے لیے قبول کرنا مشکل ہیں، تاہم دونوں ممالک کسی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
جنوبی کوریا نے گزشتہ سال امریکا میں 350 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا، جس کے بدلے واشنگٹن نے جنوبی کوریا سے درآمد ہونے والی اشیا پر محصولات 15 فیصد تک کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ جنوبی کوریا نے رواں ہفتے اس سرمایہ کاری منصوبے پر پارلیمانی بریفنگ بھی مؤخر کردی، جو اب آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
صدر لی نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ممکنہ ملاقات کے بارے میں بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے مہینوں میں ایسی ملاقات ممکن ہے، لیکن اس کے لیے کئی عوامل کا ایک ساتھ سازگار ہونا ضروری ہوگا۔
لی جے میونگ کے مطابق صدر ٹرمپ شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت چاہتے ہیں اور جنوبی کوریا بھی امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے کم جونگ اُن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ممکنہ ملاقات کے لیے ٹرمپ کی بار بار کی جانے والی اپیلوں پر اب تک زیادہ ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ اپنے معاونین پر زور دے رہے ہیں کہ کم جونگ اُن کے ساتھ ملاقات موسم خزاں میں ہی ممکن بنائی جائے۔