بھارت یورینیم کیوں تلاش کر رہا ہے، ازبکستان کے ساتھ معاہدے کی کیا اہمیت ہے؟
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ہندوستان نے اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور ایٹمی توانائی کے شعبے کو محفوظ بنانے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں تیز کر دی ہیں۔ آسٹریلیا کے ساتھ تجارتی معاہدے کے بعد اب نئی دہلی نے ازبکستان کے ساتھ بھی طویل مدتی یورینیم کی فراہمی اور نایاب معدنیات کے شعبے میں تعاون کا اہم معاہدہ کیا ہے۔
یہ معاہدہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ ازبکستان کے دوران طے پایا۔ ازبکستان کا شمار دنیا کے سب سے بڑے یورینیم پیدا کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے اور بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس معاہدے کا مقصد ملک کے نیوکلیئر پاور پلانٹس کے لیے ایندھن کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت کی اس جلد بازی کی بنیادی وجہ اس کا وسیع ایٹمی توانائی منصوبہ ہے، جس کے تحت سال 2047 تک 100 گیگا واٹ جوہری توانائی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، اس وقت بھارت کی نصب شدہ ایٹمی صلاحیت صرف 8.8 گیگا واٹ کے قریب ہے، جس کا مطلب ہے کہ آنے والی دہائیوں میں درجنوں نئے ری ایکٹرز قائم کرنے ہوں گے جنہیں چلانے کے لیے بڑی مقدار میں یورینیم کی ضرورت ہوگی، کیونکہ یورینیم نیوکلیئر پاور پلانٹس میں ایندھن کا کام کرتا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کے پاس جھارکھنڈ اور آندھرا پردیش میں یورینیم کے اپنے ذخائر تو موجود ہیں لیکن وہ ملکی ضروریات کے لیے کافی نہیں ہیں، جبکہ وہاں زمین اور ماحولیاتی مسائل کی وجہ سے کان کنی بھی چیلنجز کا شکار ہے۔
اس کے علاوہ بھارت کے پاس تھوریم کا بڑا ذخیرہ موجود تو ہے لیکن اسے ایندھن میں تبدیل کرنے کا طریقہ کار ابتدائی مرحلے میں یورینیم پر ہی منحصر ہوتا ہے۔
‘نیوز 18‘ کی رپورٹ کے مطابق اپنی سپلائی لائن کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت ایک ایسا عالمی نیٹ ورک تشکیل دے رہا ہے جس کے بعد اسے کسی ایک ملک پر انحصار نہ کرنا پڑے اور ایک ملک میں بحران کی صورت میں دوسرے ذریعہ کو استعمال کیا جا سکے۔
اسی لیے بھارت دنیا بھر کے ان ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کر رہا ہے جن کے پاس یورینیم کے بڑے ذخائر ہیں۔ اس وقت بھارت ایندھن کی فراہمی کے لیے آسٹریلیا، ازبکستان، قازقستان، کینیڈا اور فرانس جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کر چکا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ وسطی ایشیا میں ازبکستان اور قازقستان کے ساتھ شراکت داری اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد مالیاتی اور جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے سبب بین الاقوامی سطح پر ایندھن کی نقل و حمل پیچیدہ ہو گئی ہے۔
میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ ان نئے معاہدوں کی مدد سے بھارت اپنی توانائی کی سیکیورٹی کو مزید استحکام فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔