جماعت اسلامی سے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات، حکومت نے مزید مہلت مانگ لی
وفاقی حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے دور کے لیے مزید ایک روز کی مہلت مانگ لی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ سے رابطہ کرکے وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام پہنچایا، جس کے بعد پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات منگل کو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اتوار کے روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور حکومت کی جانب سے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات کے تیسرے دور کے لیے مزید ایک روز کی مہلت مانگی۔
لیاقت بلوچ کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور پیر کو ہونا تھا تاہم احسن اقبال نے وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام پہنچایا کہ وزیراعظم چاہتے ہیں پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات منگل کے روز ہوں۔ اس کے بعد حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات کا تیسرا دور منگل کو ہوگا۔
جماعت اسلامی کے رہنما نے بتایا کہ حکومت نے مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پیٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کے معاملات کے لیے 2 الگ الگ کمیٹیاں قائم کر رکھی ہیں۔ پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات منگل کو جب کہ آئی پی پیز کے معاملے پر بات چیت بدھ کو ہوگی۔
مذاکرات کا آغاز کیسے ہوا؟
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز اس وقت ہوا، جب جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی کے خلاف احتجاج اور دھرنے شروع کیے۔
یکم ستمبر کو وفاقی حکومت نے جماعت اسلامی کی قیادت سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا۔ بعد ازاں حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی سے بات چیت کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی جب کہ جماعت اسلامی نے نائب امیر لیاقت بلوچ کی سربراہی میں اپنی مذاکراتی کمیٹی قائم کی۔
7 ستمبر کو مذاکرات کا پہلا دور وزارت منصوبہ بندی میں ہوا، حکومتی وفد کی قیادت احسن اقبال نے کی جب کہ جماعت اسلامی کے وفد کی سربراہی لیاقت بلوچ نے کی۔ پہلے دور میں جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کے سامنے 6 تجاویز پیش کیں۔
لیاقت بلوچ نے مذاکرات کے بعد کہا تھا کہ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ عوام کو ریلیف دینا ہے، ان کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی میں کمی یا خاتمہ کیا جائے اور حکومت اپنے غیر ترقیاتی اخراجات میں بھی کمی کرے۔
دوسری جانب احسن اقبال نے کہا تھا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کی تجاویز وصول کرلی ہیں اور متعلقہ اداروں سے رائے لینے کے بعد ان پر غور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض معاملات میں حکومت کو مجبوریوں کا سامنا ہوتا ہے۔
دوسرے دور میں کیا ہوا؟
10 ستمبر کو حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوا، یہ اجلاس پنجاب ہاؤس میں ہوا، جس میں پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے سے متعلق تجاویز پر بات چیت کی گئی۔
دوسرے دور میں حکومت نے جماعت اسلامی کی تجاویز پر غور کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔ حکومتی وفد نے جماعت اسلامی سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال نہ دینے کی درخواست بھی کی تھی۔
جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور لیوی کے خاتمے کے لیے اس نے حکومت کے سامنے اپنا مؤقف واضح کردیا ہے۔ جماعت اسلامی کے مطابق مذاکرات کے باوجود اس کا احتجاج جاری رہے گا۔
اب مذاکرات کا اگلا مرحلہ
تازہ پیش رفت کے مطابق حکومت نے تیسرے دور کے لیے ایک روز کی مہلت طلب کی ہے۔ احسن اقبال کے رابطے کے بعد پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات منگل کو ہونے ہیں جب کہ آئی پی پیز سے متعلق معاملات پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان بات چیت بدھ کو متوقع ہے۔
حکومت کی جانب سے دونوں معاملات کے لیے الگ کمیٹیاں قائم ہونے کے بعد اب مذاکرات میں پیٹرولیم لیوی، عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف اور آئی پی پیز سے متعلق جماعت اسلامی کے مطالبات پر بات چیت جاری رہے گی۔