شہباز شریف کا محمد بن سلمان سے رابطہ، حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے کی مذمت
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے رابطہ کیا ہے اور یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے آج شام سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے گفتگو کی ہے۔
بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب میں سویلین اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر حالیہ حوثی حملوں کی سخت مذمت کی اور سعودی قیادت سمیت مملکت کے عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں جو عالمی معیشت اور توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے سعودی ولی عہد کی قیادت اور وژن کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ شہزادہ محمد بن سلمان موجودہ مشکل حالات میں دانش مندانہ قیادت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وہ خود خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے یمن سے متصل علاقے پر حوثیوں کی جانب سے میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
سعودی عرب کے محکمہ سول ڈیفنس کے مطابق ہفتے کے روز یمن سے داغا گیا میزائل سعودی عرب کے جنوبی علاقے جازان کے طوال گورنریٹ میں گرا جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی جب کہ ایک مسجد سمیت متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹس کے مطابق قبل سعودی حکام نے ممکنہ حملوں کے خطرے کے پیش نظر اس حملے سے چند گھنٹے قبل پیشگی انتباہ بھی جاری کیا تھا۔
واضح رہے کہ یمن میں اس وقت ایران نواز حوثیوں اور اور سعودی حمایت فورسز کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔ دونوں فوجوں کے درمیان جھڑپیں ملک کے دو اہم حکومتی مراکز طائز اور مارب کے اطراف میں ہو رہی ہیں، جہاں حوثی جنگجو پیش قدمی کی کوشش کر رہے ہیں تاہم انہیں حکومتی فورسز کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے گزشتہ دنوں یمن کے اہم ساحلی صوبے المخا پر قبضے کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اس علاقے میں دونوں دھڑے براہِ راست آمنے سامنے آگئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حوثی تحریک کے جنگجو شمالی شہر مارب کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں، تاہم انہیں یمنی فوجیوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ حکومتی فورسز نے مارب کے مغرب میں المشجہ اور الزور کے علاقوں میں بھی حوثیوں کے بڑے حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔
واضح رہے کہ مارب اور طائز یمنی کی بین الاقومی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے دو اہم مضبوط مراکز سمجھے جاتے ہیں۔ مارب حکومتی فورسز کے زیرِ کنٹرول ملک کا آخری بڑا تیل اور گیس کا مرکز ہے، جہاں اہم فوجی تنصیبات بھی موجود ہیں اور یہ شمالی یمن میں حکومت کے لیے بنیادی لاجسٹکس مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق مارب پر حوثیوں کا قبضہ یمنی حکومت کا شمالی علاقوں پر کنٹرول ختم کر سکتا ہے اور کامیابی کی صورت میں حوثیوں کا یمن کے باقی ماندہ توانائی کے وسائل پر بھی کنٹرول ہو جائے گا۔