حکومتی کفایت شعاری مہم: بازار 9، شادی ہالز 10 اور ریسٹورنٹس 11 بجے بند کرنے کا حکم

وفاقی حکومت نے ملک میں ایندھن کی بچت کے لیے 3 ماہ کے لیے کفایت شعاری مہم کا نفاذ کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق مارکیٹیں رات 9 بجے، شادی ہال رات 10 بجے اور ریسٹورنٹس رات 11 بجے بند کردیے جائیں گے جب کہ شادی کی تقاریب میں صرف ون ڈش ہوگی، فارمیسی، اسپتال، بیکری، ملک شاپ، تندور و دیگر اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گے۔

وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر کفایت شعاری مہم کا اعلان کیا ہے، جس کا وفاقی کابینہ ڈویژن کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، جس کے مطابق کفایت شعاری مہم کی مدت 3 ماہ مقرر کی گئی ہے۔

کمیٹی کی سفارشات پر غور کے بعد کفایت شعاری اور ایندھن بچت کے اقدامات پر فوری طور پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سرکاری گاڑیوں کے لیے 3 ماہ کے عرصے تک ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی کی جائے گی، مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، ضروری خدمات اور ایف بی آر کی آپریشنل گاڑیاں اس اقدام سے مستثنیٰ ہوں گی جب کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے گاڑیوں پر ایندھن میں کمی کا اقدام لاگو نہیں ہوگا۔

مالی سال 2026-27 کے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کی کٹوتی ماہانہ بنیادوں پر کی جائے گی، بیرون ملک پاکستانی مشنز اور ان مشنز میں تعینات تمام پیشہ ورانہ گروپس یا سروسز سے تعلق رکھنے والے افسران اور اہلکار بھی بجٹ کٹوتی کے اقدام میں شامل ہوں گے تاہم ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ پر 5 فیصد کٹوتی لاگو نہیں ہوگی۔

تمام اقسام کی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کی جارہی ہے، تمام پائیدار اشیاء کی خریداری پر مکمل پابندی ہوگی، آئی ٹی سے متعلق خریداری اس پابندی سے مستثنیٰ ہوگی، 3 ماہ کے لیے بیرون ملک تمام سرکاری دوروں اور سفر پر مکمل پابندی ہوگی، حتیٰ کہ لازمی نوعیت کے دورے بھی اس پابندی کے دائرے میں شامل ہوں گے، تاہم اسکالرشپس کے تحت پیش کیے جانے والے دورے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

کفایت شعاری کے اقدامات سے استثنیٰ کی درخواستوں پر کیس ٹو کیس بنیاد پر غور کیا جائے گا جب کہ وفاقی حکومت نے صوبائی اور علاقائی حکومتوں کو بھی اسی نوعیت کے کفایت شعاری اور ایندھن بچت کے اقدامات اپنانے پر غور کرنے کی ہدایت کی ہے۔

فیصلوں کے تحت سرکاری اجلاسوں کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے، غیرملکی وفود کے سوا سرکاری عشائیوں کی میزبانی پر مکمل پابندی ہوگی،  حکومت کے فنڈز سے ہونے والے سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور کانفرنسز پر پابندی ہوگی جب کہ ناگزیر سرکاری تقریبات کے لیے سرکاری آڈیٹوریم اور کمیٹی رومز استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

شادی کی تقریبات میں صرف ایک ڈش پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار رات 9 بجے بند ہوں گے، شادی ہالز، مارکیز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے بند ہوں گے، ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے بند ہوں گے تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری مستثنیٰ ہوں گے۔

فارمیسی، اسپتال، کلینک، میڈیکل لیبارٹری، پٹرول پمپس اور دیگر ضروری شعبے اوقاتِ کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہیں جب کہ بیکری، تندور، دودھ و ڈیری شاپ، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور جم پر بھی اوقات کار کی پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

Related posts