سرکاری لگژری جہاز پر دورۂ لندن: مریم نواز کے کروڑوں کے اخراجات کس نے ادا کیے؟
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے انگلینڈ میں اپنی بیٹی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے سرکاری طیارے کے استعمال پر اٹھنے والے تمام اخراجات کی ادائیگی کردی ہے۔
مریم نواز رواں ماہ کے آغاز میں اپنی بیٹی ماہ نور صفدر کی گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے لندن گئی تھیں اور انہوں نے اس سفر کے لیے پنجاب حکومت کا گلف اسٹریم جی 500 طیارہ استعمال کیا تھا، جسے انہوں نے اپنا نجی دورہ قرار دیا تھا۔

یہ وہی لگژری طیارہ ہے جس کی خریداری پر پنجاب حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
مریم نواز کے نجی دورۂ لندن پر اپوزیشن رہنماؤں اور ناقدین کی جانب سے سخت تنقید کی گئی تھی اور موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نجی سفر کے لیے سرکاری طیارے کا استعمال غریب عوام کے پیسوں کا ضیاع ہے۔
پاکستان تحریک انصاف اور دیگر سیاسی شخصیات کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ حکومت اس سفر پر آنے والے تمام اخراجات کی رسیدیں اور ثبوت عوام کے سامنے پیش کرے تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس معاملے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ مریم نواز کا لندن میں بیٹی کی گریجویشن کا خرچ اس غریب اور امیر قوم نے ادا کیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے بھی اپنے بیان میں موقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی صوبے کے وزیراعلیٰ کو سرکاری جہاز ملک سے باہر لے کر جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
اسی طرح سابق وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل نے شاہد خاقان عباسی کی مثال دیتے ہوئے لکھا کہ جب شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے تو وہ اپنی علیل بہن سے ملنے امریکا گئے تھے، جہاں ان کی امریکی نائب صدر مائیک پینس سے طے شدہ ملاقات بھی تھی، مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کو سرکاری دورہ قرار نہیں دیا بلکہ ایک کمرشل ایئر لائن کے ذریعے سفر کیا اور اپنے ساتھ جانے والے چیف سکیورٹی آفیسر کے ٹکٹ کے اخراجات بھی خود برداشت کیے۔
اس تنقید کے بعد پنجاب حکومت کی چیف ڈیجیٹل میڈیا اسٹریٹجسٹ عظمیٰ بخاری نے وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے دورہ لندن پر آنے والے جہاز کے تمام اخراجات اپنے پاس سے ادا کریں گی۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ وزٹ ختم ہوتا تو تخمینہ لگتا اور ادائیگی کی جاتی، کیونکہ سرکاری نظام میں ہر چیز ایک قانونی ضوابط اور طریقہ کار کے تحت چلتی ہے اور چالان کے ذریعے ادائیگی ہوتی ہے، یہ کوئی ایزی پیسہ یا جاز کیش نہیں کہ سفر ختم ہونے سے پہلے ہی بٹن دبا کر حساب سامنے رکھ دیا جائے۔
بعد ازاں، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے جیٹ اسٹریم انٹرنیشنل اور پاکستان اسٹیٹ آئل کی جانب سے موصول ہونے والے بلوں کے بعد وزیراعلیٰ کو 5 سے 9 ستمبر تک کیے گئے اس دورے کے واجبات کی ادائیگی کے لیے باضابطہ مراسلہ جاری کیا۔

اس مراسلے کے بعد 17 ستمبر کو عمر عباس نامی شہری کے ذریعے بینک آف پنجاب کے چیک سے 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے کی رقم نیشنل بینک آف پاکستان کی ویلنشیا برانچ لاہور میں حکومت پنجاب کے خزانے کے اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی اور اس طرح تمام مطلوبہ رقم کی مکمل ادائیگی کر دی گئی۔
تاہم، رسید پر موجود 18 ستمبر کی مہر پر تنقید کا سلسلہ شروع ہوا تو عظمیٰ بخاری نے جواب دیتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ”بینکوں میں چیک جمع ہونے کے بعد کلئیرنس اگلے دن ہی ہوتی ہے“۔