دو اسرائیلی بھائی مغربی کنارے میں آبادکاروں کے لیے زمین ہتھیانے کی مہم کیسے چلا رہے ہیں؟

مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے اور نئی غیر قانونی بستیوں کے قیام کا ایک نیا اور تیز ترین طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، اس مہم کے مرکزی کردار ’لیبی کنسٹرکشن اینڈ انفراسٹرکچر‘ نامی کمپنی کے مالک دو اسرائیلی بھائی، الیاو لیبی اور ہارل ’کوکو‘ لیبی ہیں، جو پری فیبریکیٹڈ یعنی پہلے سے تیار شدہ عارضی گھر اور ڈھانچے بنا کر بغیر کسی سرکاری اجازت کے فلسطینیوں کی چراگاہوں اور زرعی زمینوں پر نصب کر دیتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، یہ عمل محض چند عارضی گھروں سے شروع ہوتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اسے باقاعدہ بستی کی شکل دے دی جاتی ہے، جس سے مقامی فلسطینی چرواہے اور کسان اپنی آباؤ اجداد کی زمینوں سے محروم ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

رائٹرز کا دعویٰ ہے کہ یہ غیر قانونی مہم بظاہر چند جنونی آبادکاروں کا انفرادی عمل دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں اسے اسرائیلی حکومت اور عسکری اداروں کی بھرپور اور منظم پشت پناہی حاصل ہے۔

 اسرائیلی آبادکار الیاو لیبی: تصویر رائٹرز
اسرائیلی آبادکار الیاو لیبی: تصویر رائٹرز

اسرائیلی حقوقِ دانش کے گروپس کے مطابق گزشتہ تین سالوں کے دوران ایسی 184 غیر قانونی بستیاں تعمیر کی گئی ہیں، جو گزشتہ 30 سالوں کی مجموعی تعداد کے برابر ہیں۔

اس مہم کے پیچھے ایک وسیع سیاسی و اقتصادی حکمت عملی کارفرما ہے جس کا مقصد مغربی کنارے میں فلسطینی ریاست کے قائم ہونے کے امکانات کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔

اسرائیلی حکومت نہ صرف ان آبادکاروں کو مالی گرانٹس اور چراگاہوں کے پرمٹ مہیا کر رہی ہے بلکہ اسرائیل کے دفاعی ادارے ان کمپنیوں کو عسکری ٹھیکے اور سیکیورٹی بھی فراہم کرتے ہیں۔

اس قبضے کی مہم کا سب سے المناک پہلو وہ تشدد اور ہراسانی ہے جس کا سامنا وہاں کے مقامی فلسطینیوں کو کرنا پڑتا ہے۔

آبادکار مسلح ہو کر فلسطینی دیہاتوں، جیسے کہ دوما اور فصائل پر حملے کرتے ہیں، ان کے مویشیوں کے پانی اور بجلی کے ذرائع کاٹ دیتے ہیں اور انہیں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق اس قسم کے غیر قانونی ٹھکانوں کے قائم ہونے کے بعد آبادکاروں کے پرتشدد حملوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جن میں متعدد فلسطینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ سیکڑوں زخمی اور بے گھر ہو چکے ہیں۔

ایک فلسطینی شخص دوما میں یہودی انتہا پسندوں کے آتشزنی کے ایک حملے کے بعد تباہ شدہ مکان کا معائنہ کر رہا ہے، جس میں ایک میاں بیوی اور ان کا 18 ماہ کا شیرخوار بچہ جاں بحق ہو گئے تھے: 31 جولائی، 2015/ روئٹرز
ایک فلسطینی شخص دوما میں یہودی انتہا پسندوں کے آتشزنی کے ایک حملے کے بعد تباہ شدہ مکان کا معائنہ کر رہا ہے، جس میں ایک میاں بیوی اور ان کا 18 ماہ کا شیرخوار بچہ جاں بحق ہو گئے تھے: 31 جولائی، 2015/ روئٹرز

اس صورتحال پر فلسطینی انتظامیہ کے سینئر اہلکار واصل ابو یوسف کا کہنا ہے کہ اس تمام تر آباد کاری کے پھیلاؤ کا اصل مقصد ایک آزاد اور جغرافیائی طور پر جڑی ہوئی فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔

دوسری جانب دوما گاؤں کی کونسل کے سربراہ سلیمان دوابشہ نے الیاو لیبی کے منفی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ الیاو لیبی علاقے میں خوف و ہراس پھیلاتا ہے اور شہریوں کی بے دخلی اور ان کی زمینوں پر قبضے کی کھلم کھلا کال دیتا ہے۔

دنیا کے بیشتر ممالک اور بین الاقوامی ادارے ان بستیوں کو غیر قانونی تصور کرتے ہیں اور برطانیہ، کینیڈا، فرانس اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے ان لیبی بھائیوں اور ان کی تنظیموں پر پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔

اس کے باوجود اسرائیلی قیادت اور وزراء ان اقدامات کو اپنی مذہبی اور تاریخی زمین پر واپسی اور سیکیورٹی کا نام دے کر جائز قرار دیتے ہیں۔

یہ منظم مہم نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا باعث بن رہی ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔

Related posts