غزہ میں پورے قبیلے کا اجتماعي جنازہ، ملبے سے ملنے والی 112 لاشیں ایک ساتھ سپرُدِ خاک

غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے تقریباً تین سال بعد ملبے سے برآمد ہونے والی 112 فلسطینیوں کی باقیات کو اجتماعی جنازے کے بعد سپردِ خاک کر دیا گیا۔ فلسطینی حکام کے مطابق یہ تمام افراد الحساینہ (ابو شریعہ) قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، جن کے سیکڑوں افراد نومبر 2023 میں ایک ہی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔

غزہ کے علاقے صبرا میں اسرائیلی فضائی حملے کے تقریباً تین سال بعد ملبے سے برآمد ہونے والی 112 لاشوں کی باقیات کو منگل کے روز اجتماعی جنازے کے بعد سپردِ خاک کر دیا گیا۔

فلسطینی حکام کے مطابق 22 نومبر 2023 کو اسرائیلی فضائی حملے میں الحساینہ، المعروف ابو شریعہ، خاندان کی رہائشی عمارتوں کا ایک مجموعہ اس وقت تباہ ہوگیا تھا جب زیادہ تر افراد سو رہے تھے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں الحساینہ خاندان کے مجموعی طور پر 308 افراد جان سے گئے تھے۔ ان میں سے تقریباً نصف افراد کی لاشیں پہلے ہی نکال کر دفنا دی گئی تھیں، جبکہ 153 افراد کی باقیات ملبے تلے دبی رہ گئی تھیں۔

حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں 40 رکنی ریسکیو ٹیم نے 17 روز تک مسلسل کارروائی کرتے ہوئے ملبہ ہٹایا اور لاپتا افراد میں سے 112 کی باقیات برآمد کیں، جن کی شناخت مختلف شواہد اور اہلِ خانہ کی مدد سے کی گئی۔

اجتماعی جنازے میں الحساینہ خاندان کے زندہ بچ جانے والے افراد، پڑوسیوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ فلسطینی حکام نے اسے غزہ جنگ کا سب سے بڑا اجتماعی جنازہ قرار دیا۔

جنازے کے دوران سفید کفنوں میں لپٹی لاشوں کو اسٹریچرز پر رکھ کر شہر کی سڑکوں سے گزارا گیا، جبکہ ایک بینر پر جاں بحق ہونے والے مردوں، خواتین اور بچوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔

الحساینہ خاندان کے ایک زندہ بچ جانے والے رکن تیسیر الحساینہ نے کہا کہ آج کا دن ایک بار پھر ان کے زخم تازہ کر گیا ہے۔

انہوں نے کہا، ”تین سال بعد یہ اجتماعی جنازہ ہمارے بچوں اور خواتین کے دکھ کو دوبارہ زندہ کر گیا، تاہم ہمیں تسلی ہے کہ ہمارے پیارے اللہ کے حضور شہید ہیں۔“

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نومبر 2023 کے اس حملے سے متعلق اسرائیلی فوج کا اس وقت کا کوئی باضابطہ مؤقف دستیاب نہیں ہو سکا، جبکہ تازہ تبصرے کی درخواست پر بھی فوری جواب نہیں دیا گیا۔

فلسطینی وزارتِ صحت کے مطابق غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ اندازاً 8 ہزار مزید افراد کی لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔

65 سالہ عمر الحساینہ، جو اس حملے میں زندہ بچ گئے تھے اور بعد ازاں مصر منتقل ہوگئے، نے قاہرہ میں سیٹلائٹ ٹی وی پر اپنے خاندان کے اجتماعی جنازے کی تصاویر دیکھتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں ان کی اہلیہ، چار بیٹے اور چار پوتے پوتیاں جاں بحق ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا، ”وہ میرے وجود کا حصہ تھے۔ میں نے ایک دن بھی ایسا نہیں گزارا جب انہیں یاد نہ کیا ہو۔ آج کا جنازہ کم از کم ان شہداء کا حق تھا تاکہ ان کے جسم سکون سے دفن ہو جائیں۔“

رائٹرز کے مطابق غزہ کی زیادہ تر آبادی ان فلسطینی خاندانوں پر مشتمل ہے جو ماضی میں اپنے آبائی علاقوں سے بے دخل ہونے کے بعد ایک ہی علاقے میں آباد ہوئے تھے، جس کے باعث ایک ہی فضائی حملہ پورے خاندان یا قبیلے کو ختم کر سکتا ہے۔

غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ باقیات کی شناخت کپڑوں، جسم پر موجود نشانات، طبی امپلانٹس، زیورات اور اہلِ خانہ کی فراہم کردہ معلومات کی مدد سے کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملبہ ہٹانے کے لیے مزید بھاری مشینری دستیاب ہو تو غزہ میں ملبے تلے دبے ہزاروں افراد کی باقیات تین ماہ کے اندر نکالی جا سکتی ہیں۔

اجتماعی جنازے کے بعد الحساینہ خاندان کے 112 افراد کو غزہ کے ایک قبرستان میں تازہ قبروں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

Related posts