لارڈز ٹیسٹ: پہلے دن کا کھیل خراب روشنی کے باعث روک دیا گیا، انگلینڈ کے 9 وکٹوں پر 248 رنز
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز ٹیسٹ کے پہلے دن کا کھیل خراب روشنی کے باعث روک دیا گیا ہے جب کہ انگلش ٹیم نے اب تک 56 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 248 رنز بنالیے ہیں۔
لارڈز میں کھیلے جارہے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی دعوت پر انگلینڈ کی جانب سے بین ڈکٹ اور ایمیلی گائے نے اننگز کا آغاز کیا اور ٹیم کا اسکور 21 تک ہی پہنچا تھا کہ انگلینڈ کو پہلا نقصان اٹھانا پڑا۔ ایمیلی گائے صرف 8 رنز بنانے کے بعد محمد عباس کی گیند پر وکٹ کیپر محمد رضوان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔
ایمیلی گائے کے آؤٹ ہونے کے کچھ ہی دیر بعد بین ڈکٹ بھی صرف 17 رنز بنانے کے بعد اپنی وکٹ گنوابیٹھے، انہیں بھی محمد عباس نے آؤٹ کیا اور یوں 26 کے اسکور پر انگلینڈ کے دونوں اوپنرز پویلین لوٹ گئے۔
اس کے بعد انگلش کپتان جو روٹ بھی زیادہ دیر وکٹ پر ٹھہر نہ سکے اور 36 کے مجموعی اسکور پر جو روٹ بھی صرف 4 رنز بنانے کے بعد محمد عباس کا شکار بن گئے۔
جو روٹ کے آؤٹ ہونے کے بعد ہیری بروک نے جارڈن کوکس کے ساتھ مل کر ٹیم کی کمان سنبھالی اور دونوں بلے بازوں نے جارحانہ بیٹنگ کی بدولت ٹیم کا اسکور 77 رنز تک پہنچایا اور اس دوران دونوں کے درمیان 41 رنز کی شراکت قائم ہوئی تاہم 77 کے مجموعی اسکور پر انگلینڈ کو چوتھا نقصان اٹھانا پڑا، ہیری بروک محض 15 رنز بنانے کے بعد محمد علی کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔
ایک وقت پر لگ رہا تھا پاکستانی بولرز انگلش ٹیم کو جلد آؤٹ کرلیں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا اور 4 وکٹیں جلد گرنے کے باوجود وقفے وقفے سے شراکت داری قائم ہوتی رہی۔ جارڈن کوکس اور ڈین لارنس نے اننگز کو آگے بڑھاتے ہوئے ٹیم کا مجموعی اسکور 120 تک پہنچایا تاہم ڈین لارنس 17 رنز بنانے کے بعد رن آؤٹ ہوگئے اور اس دوران دونوں بلے بازوں نے پانچویں وکٹ کے لیے 43 رنز کی شراکت داری قائم کی۔
انگلینڈ کی 120 رنز پر 5 وکٹیں گرنے کے بعد جارڈن کوکس نے جیمی اسمتھ کے ساتھ مل کر اننگز کو سنبھالا اور ٹیم کا اسکور 187 رنز تک پہنچایا، اس دوران دونوں بلے بازوں نے نصف سنچریاں اسکور کیں اور دونوں کے درمیان چھٹی وکٹ کے لیے 67 رنز کی شراکت قائم ہوئی جو اس اننگز کی اب تک کی سب سے بڑی پارٹنر شپ ہے۔
187 کے مجموعی اسکور پر جارڈن کوکس 55 رنز بنانے کے بعد خرم شہزاد کا شکار بن گئے، ان کی اننگز میں 7 چوکے شامل تھے۔ جارڈن کوکس کے آؤٹ ہونے کے بعد جیمی اسمتھ بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور 222 کے مجموعی اسکور پر 10 چوکوں کی مدد سے 61 رنز بنانے کے بعد محمد علی کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔
اس کے بعد انگلینڈ کی آٹھویں وکٹ بھی 222 کے اسکور پر گرگئی، اولی روبنسن بغیر کوئی رن بنائے محمد علی کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے جب کہ 243 کے اسکور پر جوفرا آرچر بھی 14 رنز بنانے کے بعد محمد عباس کا شکار بن گئے۔
انگلینڈ کا اسکور 56 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 248 رنز تک پہنچا تو خراب روشنی کے باعث میچ کو روک دیا گیا، گس ایٹکنسن 34 اور جوش ٹنگ ایک رن بنا کر کیریز پر موجود ہیں۔
پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے 4 اور محمد علی نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ خرم شہزاد کے حصے میں صرف ایک وکٹ آئی اور ایک کھلاڑی رن آؤٹ ہوا۔
میچ کا ٹاس
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا میچ آج سے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جا رہا ہے، دوسرے ٹیسٹ میچ کا ٹاس بارش کے تاخیر کا شکار ہوا تاہم تاخیر سے ہونے والے میچ کا ٹاس پاکستان کے کپتان بابر اعظم نے جیت کر پہلے خود فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔
دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستان ٹیم نے ایک تبدیلی کی گئی ہے، قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم کی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے جب کہ سلمان علی آغا کو ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا ہے۔
ٹاس کے موقع پر کپتان بابر اعظم کا کہنا تھا کہ بطور کپتان لارڈز میں کھیلنا اعزاز کی بات ہے، اوور کاسٹ کنڈیشنز میں پچ پر موجود گھاس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
انگلش کپتان جو روٹ کا کہنا تھا کہ وہ بھی پہلے بولنگ کرنا چاہتے تھے، ٹیم میں ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، پچ دیکھنے میں اچھی لگ رہی ہے، بڑا اسکور کرنے کی کوشش کریں گے۔
پاکستان کا اسکواڈ
گرین شرٹس کی پلیئنگ الیون میں کپتان بابر اعظم، وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان، اذان اویس، امام الحق، شان مسعود، عبداللہ شفیق، سعود شکیل، علی عثمان، خرم شہزاد، محمد علی اور محمد عباس شامل ہیں۔
انگلینڈ کا اسکواڈ
انگلینڈ کی ٹیم میں کپتان جو روٹ، ایمیلی گائے، بین ڈکٹ، جارڈن کوکس، ہیری بروک، ڈین لارنس، جیمی اسمتھ، گس ایٹکنسن، جوفرا آرچر، اولی روبنسن اور جوش ٹنگ شامل ہیں۔
یاد رہے کہ انگلینڈ کو 3 میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز میں 0-1 کی برتری حاصل ہے۔ لیڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دی تھی۔
یہ سیریز انگلینڈ میں پاکستان کی 2020 کے بعد پہلی ریڈ بال سیریز ہے، دونوں ٹیمیں 5 سال قبل 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں آمنے سامنے آئی تھیں، جس میں انگلینڈ نے ایک میچ میں کامیابی حاصل کی تھی جب کہ دو میچ ڈرا ہوگئے تھے۔
پاکستان نے آخری مرتبہ 1996 میں انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتی تھی، جب وسیم اکرم کی قیادت میں پاکستانی ٹیم نے 1-2 سے کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ انگلینڈ میں پاکستان کی ٹیسٹ سیریز میں مسلسل تیسری کامیابی تھی۔ اس سے قبل عمران خان کی قیادت میں 1987 اور جاوید میانداد کی کپتانی میں 1992 میں پاکستان نے انگلینڈ کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی۔
دونوں ٹیمیں مجموعی طور پر 93 ٹیسٹ میچوں میں ایک دوسرے کا سامنا کر چکی ہیں۔ انگلینڈ نے 31 اور پاکستان نے 23 میچ جیتے جب کہ 39 ٹیسٹ بے نتیجہ رہے ہیں۔