نارووال میں 125 سالہ قدیم ہندو مندر گرائے جانے کے بھارتی پروپیگنڈ پر حکومتِ پنجاب کی وضاحت

پنجاب کے شہر نارووال کے نواحی علاقے اڈا سراج میں ایک قدیم ہندو مندر کو دانستہ طور پر گرانے کی افواہوں اور بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے پر صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا نے موقف جاری کرتے ہوئے تمام دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مندر کو گرائے جانے کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبریں سراسر غلط اور حقیقت کے برعکس ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خود موقع پر جا کر صورتحال کا جائزہ لیا ہے اور حقائق یہ ہیں کہ حال ہی میں ہونے والی موسلا دھار اور طوفانی بارشوں کی وجہ سے مندر کی قدیم عمارت کا صرف ایک حصہ منہدم ہوا تھا، جسے کوئی انسانی کارروائی قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔

سردار رمیش سنگھ اروڑا نے بھارتی میڈیا اور انتہا پسند عناصر کی جانب سے مچائے جانے والے واویلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غلط خبروں کی بنیاد پر ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو حقائق پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستِ پاکستان نے ہمیشہ نہ صرف اقلیتی برادری کے حقوق کا تحفظ کیا ہے بلکہ ان کے تمام مذہبی مقامات کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام اقلیتی برادری، چاہے وہ سکھ ہوں، مسیحی ہوں یا ہندو، پاکستان کے برابر کے اور باعزت شہری ہیں اور حکومت تمام مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی مکمل پاسداری کرتی ہے۔

اس سے قبل بھارتی میڈیا اور بعض اقلیتی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں جیسے اسلم پرویز ساہوترا نے دعویٰ کیا تھا کہ مندر کی عمارت کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس کے آس پاس کی زمین کے استعمال پر تنازع موجود تھا۔

ان دعوؤں کا جواب دیتے ہوئے متروکہ وقف املاک بورڈ کے سینئر افسر افتخار رانا نے وضاحت کی کہ یہ عمارت بہت پرانی تھی اور بارشوں کی وجہ سے اس کا کچھ حصہ گرا ہے۔

حکومت پنجاب نے اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ مندر کی اپنی زمین کسی کو لیز پر نہیں دی گئی تھی اور حکومت بارش سے متاثرہ حصے کی دوبارہ تعمیر اور بحالی کا کام جلد شروع کرے گی۔

پاکستانی حکام کے مطابق بھارتی ذرائع ابلاغ کی جانب سے اس قدرتی حادثے کو اقلیتوں پر مظالم کے طور پر پیش کرنا ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کا مقصد پاکستان کے اندرونی امن کو خراب کرنا ہے۔

تمام اقلیتی رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان اقلیتوں کے حقوق اور ان کی عبادت گاہوں کی نگہداشت کے معاملے میں مکمل طور پر سنجیدہ ہے اور کسی بھی غلط فہمی یا زہریلے پروپیگنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

Related posts