اونٹاریو جھیل تنازع اور امریکا کینیڈا تجارتی جنگ: ‘امریکی شہری ٹرمپ سے تنگ آگئے’: امریکی میڈیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک اور سیاسی دھچکا لگ گیا، نئی رائے شماری میں امریکی عوام نے کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ اور جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکا‘ رکھنے کے فیصلے کی واضح مخالفت کردی۔
رائٹرز اور اِپسوس کی جانب سے حالیہ دنوں میں کیے گئے سروے کے مطابق 63 فیصد امریکی جھیل اونٹاریو کا نام ’لیک امریکا‘ رکھنے کے مخالف ہیں، جبکہ صرف 14 فیصد نے اس اقدام کی حمایت کی۔ باقی افراد نے کوئی رائے نہیں دی۔
سروے کے مطابق نام کی تبدیلی کی مخالفت کرنے والوں کی تعداد حمایت کرنے والوں سے چار گنا سے بھی زیادہ ہے۔ 52 فیصد امریکیوں نے اس اقدام کی شدید مخالفت کی، جبکہ صرف 7 فیصد نے مضبوط حمایت کا اظہار کیا۔
صدر ٹرمپ کی اپنی جماعت ری پبلکن پارٹی کے ارکان میں بھی اس فیصلے کو واضح اکثریت حاصل نہیں۔ سروے میں 43 فیصد ری پبلکنز نے جھیل کا نام تبدیل کرنے کی مخالفت کی، جبکہ 33 فیصد نے حمایت کی۔
جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، تاہم جھیل اونٹاریو کا نام کینیڈا کے موجودہ صوبے کے نام سے بھی پہلے سے استعمال ہوتا آرہا ہے۔
سروے میں امریکی عوام نے کینیڈا سے متعلق صدر ٹرمپ کی نئی تجارتی پالیسی کو بھی مسترد کردیا۔ 57 فیصد امریکیوں نے کینیڈین مصنوعات پر نئے ٹیرف کی مخالفت کی، جبکہ صرف 20 فیصد نے اس کی حمایت کی۔
صرف 9 فیصد امریکیوں نے ٹیرف کی بھرپور حمایت کی، جبکہ 43 فیصد نے اس کی شدید مخالفت کی۔ ری پبلکنز میں بھی ٹیرف کی حمایت معمولی رہی، جہاں 44 فیصد نے حمایت اور 33 فیصد نے مخالفت کی۔
امریکی عوام میں ٹرمپ کے ٹیرف پہلے بھی زیادہ مقبول نہیں رہے۔ دسمبر میں کیے گئے رائٹرز کے سروے میں 53 فیصد امریکیوں نے مجموعی طور پر ٹرمپ کے ٹیرف کی مخالفت کی تھی، جبکہ 23 فیصد نے حمایت کی تھی۔
سروے میں امریکی عوام نے کینیڈا کے بجائے امریکا کو موجودہ تجارتی تنازع کا زیادہ ذمہ دار قرار دیا۔ 46 فیصد امریکیوں کا کہنا تھا کہ تنازع کی زیادہ ذمہ داری امریکا پر ہے، جبکہ صرف 12 فیصد نے کینیڈا کو ذمہ دار قرار دیا۔
40 فیصد امریکیوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئے ٹیرف سے ان کی ذاتی مالی صورتحال کو نقصان پہنچے گا، جبکہ صرف 4 فیصد نے اس سے مالی فائدہ ہونے کی توقع ظاہر کی۔
اسی طرح 68 فیصد امریکیوں نے کہا کہ امریکا کو کینیڈا کے ساتھ مذاکرات میں سخت رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے، چاہے اس کا مطلب یہ ہو کہ امریکا اپنے زیادہ تر مطالبات حاصل نہ کرسکے۔ صرف 25 فیصد نے سخت مؤقف کی حمایت کی۔
رائے شماری کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام میں کینیڈا کے ساتھ مزید کشیدگی کے لیے زیادہ حمایت موجود نہیں، حتیٰ کہ ری پبلکن ووٹرز کی بڑی تعداد بھی کینیڈا کے ساتھ نرم اور مفاہمتی رویے کی حامی ہے۔
اب یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی تنازع اور جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کا معاملہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات پر کس حد تک اثر انداز ہوگا۔
کچھ ری پبلکن رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ کینیڈا پر عائد ٹیرف سینیٹ میں پارٹی کی نشستیں برقرار رکھنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، کیونکہ سینیٹ کے کئی اہم اور سخت مقابلے والی ریاستیں کینیڈا کی سرحد سے متصل ہیں، جن میں الاسکا، مین، مشی گن اور اوہائیو شامل ہیں۔
تجزیے کے مطابق کینیڈا کے ساتھ تنازع صدر ٹرمپ کے لیے وسیع تر سیاسی نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوسکتا ہے کہ حکومت اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرنے کے بجائے دیگر معاملات پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔
جھیل اونٹاریو کا نام ’لیک امریکا‘ رکھنے کی تقریب وائٹ ہاؤس میں منعقد کرنا بھی توجہ کا مرکز بنا، حالانکہ سروے کے مطابق اس فیصلے کی حمایت صرف 14 فیصد امریکی کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت میں ایسے اقدامات اب غیر معمولی نہیں رہے، تاہم تازہ رائے شماری سے واضح ہے کہ امریکی عوام کی بڑی تعداد کینیڈا کے ساتھ تجارتی محاذ آرائی اور جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کے حق میں نہیں۔