نیپال سیلاب کے نامعلوم متاثرین کی اجتماعی تدفین: بعد میں شناخت کیسے کی جائے گی؟

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد بڑی تعداد میں ملنے والی لاوارث اور ناقابلِ شناخت لاشوں کی تدفین کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم حکام نے لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل طور پر محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔

رواں ہفتے بدھ کی صبح آنے والے سیلاب نے نیپال کے کئی علاقوں میں تباہی مچا دی۔ پانی اور کیچڑ کے تیز ریلے نے دیہات اور شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 675 افراد کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔

جنوبی نیپال میں بھارت کی سرحد سے متصل ضلع چتوان میں سب سے زیادہ 233 لاشیں ملی ہیں۔ سیلاب کے بعد بڑی تعداد میں لاشیں ملنے سے مقامی انتظامیہ کو انہیں محفوظ رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

حکام کے مطابق اسپتالوں میں لاشیں رکھنے کے لیے مناسب جگہ اور سہولیات موجود نہیں، جبکہ گرمی اور وقت گزرنے کے ساتھ لاشیں خراب ہونے لگی ہیں۔ ان سے اٹھنے والی بدبو بھی بڑھ رہی ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا کہ لاشوں کے مسلسل خراب ہونے سے انفیکشن کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

ایک سرکاری افسر نے بتایا کہ جیسے جیسے لاشوں کی تعداد بڑھتی گئی، ہم نے ایک گھر کو عارضی کولنگ سینٹر کے طور پر استعمال کیا، جہاں لاشیں رکھی جا رہی تھیں۔

افسر کا کہنا تھاکہ جب وہ گھر بھی بھر گیا تو ہمارے پاس انہیں دفن کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔

تاہم نیپالی حکام نے لاشوں کو عام طریقے سے دفن کرنے کے بجائے ایسا نظام بنایا ہے جس کے ذریعے مستقبل میں بھی ہر لاش کی شناخت ممکن ہوسکے گی۔

لاشوں کو دفنانے سے پہلے ان کے ڈی این اے کے نمونے لیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر لاش کو ایک الگ شناختی یا حوالہ نمبر دیا جا رہا ہے اور اس نمبر کے ساتھ لاش ملنے کی جگہ کا ریکارڈ بھی محفوظ کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق ہر لاش کا اپنا منفرد نمبر ہوگا۔ اگر مستقبل میں کسی لاپتا شخص کے اہل خانہ کا ڈی این اے لاش کے ڈی این اے سے مل جاتا ہے تو پولیس اسی نمبر کی مدد سے معلوم کرسکے گی کہ متعلقہ لاش کہاں دفن ہے۔

چتوان میں ہفتے کی دوپہر تک 100 سے زیادہ لاشوں کی ڈی این اے پروفائلنگ مکمل کی جاچکی تھی اور انہیں تدفین کے لیے تیار کرلیا گیا تھا۔

لاشوں کو تقریباً ڈیڑھ میٹر گہری قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے۔ ہر لاش کے درمیان تقریباً 40 سینٹی میٹر کا فاصلہ رکھا جا رہا ہے تاکہ بعد میں ڈی این اے کے ذریعے شناخت ہونے والی صرف اسی لاش کو نکالا جاسکے۔

لاشوں کو ایسے تھیلوں میں رکھا جا رہا ہے جن پر متعلقہ شناختی نمبر درج ہوگا۔ تدفین کی جگہ پر کنکریٹ کا پلیٹ فارم بھی بنایا جائے گا، جبکہ وہاں ایک تختی نصب ہوگی جس پر لاش کا شناختی نمبر درج ہوگا۔

حکام نے تدفین کے پورے عمل کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے ساتھ ساتھ قبر کی جگہ کا جغرافیائی ریکارڈ، یعنی جیو ٹیگنگ، محفوظ کرنے کا بھی انتظام کیا ہے۔ اس طرح مستقبل میں کسی مخصوص لاش کو تلاش کرنے میں مشکلات پیش نہیں آئیں گی۔

لاپتا افراد کے اہل خانہ ملک کے مختلف اسپتالوں میں اپنے ڈی این اے کے نمونے دے سکیں گے۔ جب ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج سامنے آئیں گے تو نیپال کا محکمہ صحت انہیں برآمد شدہ لاشوں کے ڈی این اے سے ملائے گا۔

اگر کسی خاندان کا ڈی این اے کسی لاش سے مل جاتا ہے تو اس لاش کا شناختی نمبر معلوم کیا جائے گا۔ پولیس اپنے ریکارڈ کی مدد سے اس نمبر سے متعلق تدفین کی درست جگہ تلاش کرے گی۔ اس کے بعد لاش کو قبر سے نکال کر اہل خانہ کے حوالے کیا جائے گا۔

نیپالی پولیس نے نامعلوم اور لاوارث لاشوں کی تفصیلات ایک ویب سائٹ پر بھی جاری کردی ہیں تاکہ لاپتا افراد کے اہل خانہ ان معلومات کی مدد سے اپنے پیاروں کے بارے میں معلوم کرسکیں۔

حکام کے مطابق نیپال میں اب بھی 2,426 افراد لاپتا ہیں، جن میں سیکڑوں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ سیلاب کے بعد لاپتا افراد کی تلاش اور لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

Related posts