’پلک جھپکتے ہی سب کچھ بہہ گیا‘: نیپال کے تباہ کن سیلاب سے بچ جانے والوں کی دردناک آپ بیتی
نیپال اور چین کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن سیلاب نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی، جہاں سیکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ بڑی تعداد میں لوگ تاحال لاپتہ ہیں۔ زندہ بچ جانے والوں نے اس آفت کو انتہائی خوفناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں اپنی جان بچانے کے لیے چند ہی لمحوں میں فیصلہ کرنا پڑا۔
ریسکیو ٹیموں نے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ان وادیوں میں پھنسے افراد کو نکالا جہاں بظاہر ایک گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد انتہائی تیز رفتار پانی اور ملبے نے سونامی جیسی صورت اختیار کر لی۔ پانی کے ریلے نے راستے میں آنے والی گاڑیوں، رہائشی کیمپوں اور تعمیراتی مقامات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس واقعے کے بعد 550 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے تھے جبکہ 1,400 سے زائد افراد لاپتہ تھے۔ لاپتہ افراد میں غیر ملکی سیاحوں کی بھی بڑی تعداد شامل بتائی گئی ہے۔
زندہ بچ جانے والوں کے مطابق سیلاب اتنی تیزی سے آیا کہ لوگوں کو سنبھلنے یا محفوظ مقام تک پہنچنے کا بہت کم وقت ملا۔
اچانک پانی اور ملبے نے سب کچھ گھیر لیا
بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والی 46 سالہ سِوارنجنی متھوناتھان 56 دیگر افراد کے ہمراہ بس میں نیپال کا سفر کر رہی تھیں۔ ان کا گروپ چینی سرحد کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک انہیں محسوس ہوا جیسے سڑک پر ٹریفک رک گئی ہو۔
متھوناتھان کے مطابق کچھ ہی دیر بعد دھند اور دھوئیں کے درمیان انہیں پانی کا ایک انتہائی تیز ریلا اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔ انہوں نے موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو بھی دکھائی جس میں پانی تیزی سے گاڑیوں کی جانب بڑھتا نظر آ رہا تھا۔
ان کے اردگرد موجود کئی گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں جبکہ کچھ کیچڑ اور ملبے کے نیچے دب گئیں۔ متھوناتھان نے بتایا کہ بس میں سوار افراد ایک ایک کرکے ڈرائیور کی طرف والے دروازے سے باہر نکلے اور ایک پہاڑی پر چڑھ کر جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔
اسی بس میں موجود 53 سالہ وجے بھونیشوری نے کہا کہ ان کے پاس جان بچانے کے لیے پہاڑی پر چڑھنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق ان کی گاڑی کے آگے اور پیچھے موجود تقریباً تمام گاڑیاں سیلابی ریلے میں غائب ہو چکی تھیں۔
پہاڑی پر چڑھتے ہوئے انہیں ایسے زوردار شور سنائی دیتے رہے جیسے دھماکے ہو رہے ہوں۔ بعد میں انہیں اندازہ ہوا کہ یہ بڑی چٹانوں اور پتھروں کے آپس میں ٹکرانے کی آوازیں تھیں۔
گروپ میں شامل بزرگ افراد کے لیے تیزی سے اوپر چڑھنا مشکل تھا۔ 61 سالہ پونگوزہلی پونمبادان نے اپنی ساڑھی اتار کر اپنے شوہر کے حوالے کر دی تاکہ اسے عارضی رسی کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ ان کے مطابق اس کپڑے کی مدد سے کئی بزرگ افراد کو پہاڑی کے اوپر کھینچنے میں مدد ملی۔
ڈیم کے منصوبے پر کام کرنے والوں نے خوفناک تباہی دیکھی؟
تریشولی وادی میں ڈیم کے منصوبوں پر کام کرنے والے کارکن بھی سیلاب کی زد میں آئے۔ وہاں موجود کارکنوں نے بتایا کہ پانی اور ملبے نے انتہائی کم وقت میں پورے علاقے کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔
دیو شریستھا، جنہیں فضائی راستے سے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا، نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس مقام پر تقریباً 400 کارکن موجود تھے۔ ان کے مطابق بڑی تعداد میں کارکن ہلاک ہوئے، تاہم آزادانہ طور پر اس تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایک کارکن بدھ تمَنگ نے بتایا کہ وہ سیلاب کے وقت ڈیم کی ایک سرنگ کے اندر کام کر رہے تھے، اسی وجہ سے ان کی جان بچ گئی۔ وہ بعد میں سرنگ سے باہر نکل کر امدادی کارکنوں تک پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ 24 گھنٹے سے زیادہ وقت تک پھنسے رہے اور جمعرات کو انہیں فضائی راستے سے وہاں سے نکالا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کے دوسرے حصے میں موجود کئی سینئر افسران سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔
ایک اور کارکن ارجن کمار تمَنگ نے بتایا کہ انہیں ہلاکتوں کی درست تعداد معلوم نہیں، تاہم پانی کے طاقتور ریلے نے تقریباً ہر چیز کو بہا دیا تھا۔
صرف دریا دکھائی دے رہا تھا:
بھارت سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ انجینئر انَے شرما بھی اس علاقے میں ایک منصوبے پر کام کر رہے تھے۔ ان کے مطابق وہ پاور ہاؤس میں موجود تھے کہ اچانک ایک زوردار آواز سنائی دی۔ پانی اندر داخل ہو رہا تھا اور انہیں فوراً باہر نکلنے کا کہا گیا۔
شرما کے مطابق جب وہ باہر آئے تو منظر مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک رہائشی کیمپ مکمل طور پر بہہ گیا تھا اور اس مقام پر انہیں صرف دریا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ اور دیگر افراد ایک دوسرے کیمپ میں پناہ لینے میں کامیاب ہوئے جو سیلاب کے بعد بھی موجود تھا۔
جان بچانے کے لیے صرف چند سیکنڈ کا وقت ملا:
سیلاب کے مرکز کے قریب شانتی بازار میں موجود انجینئر گورکھ کھٹکا نے بتایا کہ انہیں خطرے کا اندازہ ہونے کے بعد ردِعمل ظاہر کرنے کے لیے صرف تقریباً 20 سیکنڈ ملے۔
ان کے مطابق انہوں نے جان بچانے کے لیے فوراً دوڑ لگا دی۔ اس کے بعد علاقے میں پانی اور کیچڑ کی سطح تقریباً 20 فٹ تک پہنچ گئی۔
گورکھ نے بتایا کہ وہ اور دیگر افراد ایک پہاڑی پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے جہاں انہوں نے 48 گھنٹے سے زیادہ وقت گزارا۔ اس دوران انہیں امداد کا انتظار کرنا پڑا، یہاں تک کہ بالآخر ریسکیو ٹیمیں ان تک پہنچ گئیں۔
زندہ بچ جانے والوں کی روداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس آفت نے چند ہی لمحوں میں معمول کی زندگی کو تباہی میں بدل دیا۔ تاہم لاپتہ افراد کی تلاش اور ہلاکتوں کی حتمی تعداد کا تعین امدادی کارروائیوں اور مزید معلومات سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔