ایران کے لیے ایک اچھے معاہدے پر دستخط کرنے کا آخری موقع ہے: صدر ٹرمپعالمی خبریں 

ایران کے لیے ایک اچھے معاہدے پر دستخط کرنے کا آخری موقع ہے: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ایک بار پھر مذاکرات، آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق متعدد دعوے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت جاری ہے، امریکا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران کی قیادت ایک طرف امریکا سے مذاکرات اور ملاقاتوں کی خواہش ظاہر کرتی ہے، لیکن دوسری جانب عوامی سطح پر یہ دعویٰ کرتی ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور وہ صرف عمان کے ذریعے رابطے میں ہے۔

ان کے بقول حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایران کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور موجودہ سفارتی عمل خود ایران کی درخواست پر شروع ہوا ہے، جس کی حمایت سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور خطے کے دیگر کئی ممالک بھی کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو یہ ایران کے لیے کسی اچھے معاہدے پر دستخط کرنے کا آخری موقع ہوگا۔ ان کے مطابق مذاکرات مرحلہ وار آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات زیر غور ہیں، جب کہ دوسرے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات ہوگی۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور یہ امریکی پالیسی کا غیر متزلزل حصہ ہے۔

اس دوران امریکی صدر امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ سے گفتگو میں بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، اگرچہ حالیہ حملوں کے بعد اس پر شکوک و شبہات پیدا ہو گئے تھے۔ ان کے بقول، کسی وجہ سے جب وہ بات چیت کر رہے ہوتے ہیں تو یہ کہنا پسند نہیں کرتے کہ وہ مذاکرات کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی فریق آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات کرنا چاہتا ہے، تاہم ان کے نزدیک اصل اور زیادہ اہم موضوع ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ ہم ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر بات کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ اصل معاملہ یہی ہے اور میں یہ سب اسی مقصد کے لیے کر رہا ہوں۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کو وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی قسم کی فیس یا ٹرانزٹ چارجز عائد نہیں کرنے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز آزاد رہنی چاہیے۔ میں ایران کو وہاں کوئی چارجز لینے نہیں دوں گا۔ اگر کوئی فیس وصول کرے گا تو وہ امریکا ہوگا، کیونکہ مکمل کنٹرول ہمارے پاس ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر ایسی بحری ناکا بندی قائم کر رکھی ہے، جسے بعض لوگ امریکا کی فولادی دیوار بھی کہتے ہیں۔

ان کے مطابق ایران کی جانب اس وقت تک کوئی چیز نہیں جا سکتی جب تک امریکا اجازت نہ دے اور نہ ہی وہاں سے کچھ باہر آ سکتا ہے، جب تک دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو جائے یا ایران امریکی شرائط قبول نہ کر لے۔

انہوں نے کہا کہ ایران چاہے اسے تسلیم کرے یا نہ کرے، امریکا کئی دہائیوں سے جاری اس مسئلے کے حل پر بات کر رہا ہے، لیکن ایک بات ہر صورت واضح ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

ایران کے لیے ایک اچھے معاہدے پر دستخط کرنے کا آخری موقع ہے: صدر ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام آپشنز برقرار رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی رعایت صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ کسی معاہدے پر آمادہ ہو یا مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی صدر عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ جلد کسی ممکنہ معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم تہران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ نہ کوئی مذاکرات جاری ہیں اور نہ ہی کسی نئی ملاقات کا کوئی منصوبہ موجود ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق واشنگٹن کے بیانات زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔

Related posts