جلد کو سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سن اسکرین کا استعمال آج ایک عام مگر ضروری عمل بن چکا ہے۔ الٹرا وائلٹ شعاعیں نہ صرف جلد کو جھلسا سکتی ہیں بلکہ وقت سے پہلے بڑھاپا، سیاہ دھبے اور حتیٰ کہ جلد کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھا سکتی ہیں۔ ان اثرات سے بچاؤ کے لیے جدید سکن کیئر انڈسٹری نے ’نینو پارٹیکلز‘ کا استعمال، سن اسکرینز میں متعارف کرایا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا نینو پارٹیکلز واقعی محفوظ ہیں؟ اور ان کا کردار کس حد تک مثبت یا منفی ہو سکتا ہے؟
نینو پارٹیکلز دراصل ایسے انتہائی باریک ذرات ہوتے ہیں جن کا سائز 1 سے 100 نینو میٹر کے درمیان ہوتا ہے۔ یعنی یہ ذرات انسانی بال سے تقریباً ’80 ہزار گنا چھوٹے‘ ہوتے ہیں۔ ان کا چھوٹا سائز انہیں جلد پر آسانی سے لگانے، ہلکا محسوس کرنے اور مؤثر طریقے سے الٹرا وائلٹ شعاعوں کو بلاک کرنے کے قابل بناتا ہے۔
سن اسکرین میں استعمال ہونے والے سب سے عام نینو پارٹیکلز زنک آکسائیڈ (ZnO) اور ٹائٹینیم ڈائی آکسائیڈ (TiO₂) ہیں۔ ان کا بنیادی کام الٹرا وائلٹ ۔اے، اور الٹرا وائلٹ ۔بی شعاعوں کو جلد کی سطح پر ہی ریفلیکٹ (منعکس) یا بکھیر دینا ہے، تاکہ وہ جلد کی تہوں میں داخل نہ ہو سکیں۔
روایتی بمقابلہ نینو فارمولہ
ماضی میں جب یہی معدنی فلٹرز غیر نینو شکل میں استعمال کیے جاتے تھے، تو وہ جلد پر ایک سفید تہ چھوڑتے تھے، جو کئی صارفین کے لیے جمالیاتی طور پر ناگوار ہوتی تھی۔ نینو سائز کے ذرات اس مسئلے کو ختم کر دیتے ہیں کیونکہ وہ جلد پر بغیر کسی سفیدی کے لگ جاتے ہیں اور قدرتی فِنِش فراہم کرتے ہیں۔

نینو پارٹیکلز: سائنسی تحقیق اور صحت اور حفاظت کے پہلو
- 1- کیا نینو پارٹیکلز جلد میں جذب ہو کر خون میں داخل ہوتے ہیں؟
یہ عام خدشہ پایا جاتا ہے کہ نینو ذرات اتنے باریک ہوتے ہیں کہ وہ جلد کے ذریعے جسم میں جذب ہو کر خون کی گردش میں شامل ہو سکتے ہیں، جو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن کئی بین الاقوامی تحقیقی اداروں جیسے کہ ایف ڈی آے (امریکہ) ، ٹی جی اے (آسٹریلیا)، اور ای یو – ایس سی سی ایس (یورپ) نے واضح طور پر بتایا ہے کہ، ’دستیاب شواہد کے مطابق، نینو زنک آکسائیڈ اور نینو ٹائٹینیم ڈائی آکسائیڈ جلد کی صحت مند تہوں کو عبور نہیں کرتے۔‘
لہٰذا صحت مند جلد پر لگائے جانے والے نینو سن اسکرین کے ذریعے خون میں ذرات کی شمولیت کا خطرہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
- 2 ۔ سانس کے ذریعے جذب ہونے کا خطرہ؟
یہ پہلو زیادہ تر ایروسول یا سپرے فارمولیشن کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ اگر نینو پارٹیکلز کو سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونے دیا جائے، تو وہ پھیپھڑوں میں جا کر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے عالمی ادارۂ صحت اور کاسمیٹک کمپنیاں نینو سن اسکرین کو سپرے کی شکل میں فروخت نہیں کرتیں، یا اس کی اجازت صرف خاص حفاظتی شرائط کے ساتھ دی جاتی ہے۔
کیمیائی فلٹرز بمقابلہ معدنی فلٹرز: کون بہتر؟
الٹرا وائیلٹ ریز تحفظ، الٹرا وائیلٹ شعاعوں کو جذب کرتے ہیں اور انہیں یعنی شعاعوں کو منعکس یا منتشر کرتے ہیں۔
ساخت ہلکی، بے رنگ کبھی کبھی سفیدی چھوڑ سکتے ہیں لیکن یہ سفیدی صرف ’غیر نینو‘ چھوڑ سکتے ہیں۔
آج کئی معروف برانڈز کیمیائی اور معدنی فلٹرز کو ملا کر ایسے سن اسکرینز تیار کر رہے ہیں جو دونوں اقسام کے فوائد کو یکجا کرتے ہیں۔ یہ فارمولے جلد پر آسانی سے لگتے ہیں، سفید نشان نہیں چھوڑتے، اور وسیع اسپیکٹرم الٹرا وائیلٹ تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
محفوظ استعمال کے لئے ’نینو سن اسکرین‘ صرف جلد پر استعمال کریں، سانس کے ذریعے جذب سے بچیں۔ بچوں کی جلد پر نینو معدنی فلٹرز زیادہ محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔ آؤٹ ڈور ایکٹیویٹی کے لیے پانی سے محفوظ ’نینو سن اسکرین‘ کا انتخاب کریں۔
نینو پارٹیکلز نے جدید سن اسکرین فارمولیشن کو بہتر اور مؤثر بنانے میں انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ ان کی مدد سے الٹرا وائیلٹ شعاعوں سے تحفظ حاصل کرنا نہ صرف آسان بلکہ جمالیاتی طور پر بھی خوشگوار ہو گیا ہے۔ اگرچہ سائنسی دنیا میں ان کی افادیت اور خطرات پر تحقیق جاری ہے، لیکن موجودہ عالمی ادارے انہیں محفوظ اور مؤثر تسلیم کر چکے ہیں، بشرطیکہ ان کا استعمال احتیاط اور رہنمائی کے ساتھ کیا جائے۔