امریکا جہازوں کو جھوٹی ضمانتیں دے رہا ہے، آبنائے ہرمز پر ہمارا کنٹرول ہے: ایران
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور امریکا جہازوں کو آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی ’’جھوٹی ضمانتیں‘‘ دے رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی میں شدت آئی تو تہران فوجی جواب دے گا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق منگل کو اپنے ویڈیو پیغام میں محمد باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز کی صورت حال اور امریکا کے ساتھ کشیدگی کے حوالے سے اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی فورسز امریکا کی جانب سے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں۔
باقر قالیباف نے اعتراف کیا کہ ’’دشمن کچھ جہازوں کو‘‘ آبنائے ہرمز سے گزارنے میں کامیاب ہوا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایرانی فورسز اب بھی آبنائے پر ’’مکمل کنٹرول‘‘ رکھتی ہیں اور اسے کھولنے کی اجازت نہیں دیں گی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے الزام عائد کیا کہ امریکا جہازوں کو آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی ’’جھوٹی ضمانتیں‘‘ دے رہا ہے جب کہ اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
قالیباف کے مطابق امریکا مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے کو استعمال کرنا چاہتا ہے تاہم ایران ایسا ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ایک فوجی اقدام کے مترادف ہے اور اگر اس ناکہ بندی میں شدت آئی تو ایران فوجی جواب دے گا۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر امریکا کی پالیسی یہ ہے کہ خلیج سے ایران تیل برآمد نہ کر سکے تو پھر ’’کوئی بھی تیل برآمد نہیں کر سکے گا‘‘۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اپنے بیان میں ایران کی فوجی صلاحیت کے حوالے سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی فوجی صلاحیت دشمن کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے دوبارہ تعمیر کر رہا ہے۔
باقر قالیباف نے دعویٰ کیا کہ ہر نئی کشیدگی کے مرحلے میں ایرانی فوج نے پہلے سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے دشمن کو اس نتیجے پر پہنچا دیا ہے کہ وہ ایرانی میزائلوں کو روک نہیں سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دشمن کو معلوم ہونا چاہیے کہ جنگ کے اگلے مراحل میں ایران کو معیار اور تعداد، دونوں اعتبار سے زیادہ برتری حاصل ہوگی۔
ایرانی پارلیمانی اسپیکر باقر قالیباف کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ طور پر طویل تنازع کے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔