امریکا سے نکالے گئے جنوبی افریقی سفیر کا وطن واپسی پر پرتپاک استقبال

0 minutes, 0 seconds Read

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے ساتھ تنازع کے باعث امریکا سے نکالے جانے والے جنوبی افریقی سفیر کا اتوار کے روز وطن واپس پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔

مغربی زرائع ابلا غ کے مطابق جنوبی افریقہ کے سفیر ابراہیم رسول کو جنہیں ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا سے بے دخل کر کے ”پرسونا نان گریٹا“ قرار دیا تھا، اتوار کے روز سینکڑوں حامیوں نے وطن واپس آنے پر گرمجوشی سے خوش آمدید کہا۔

واشنگٹن سے نکالے جانے والے سفیر ابراہیم رسول نے کیپ ٹاؤن میں کہا کہ ’گھر آنا ہمارا انتخاب نہیں تھا، لیکن بغیر کسی پچھتاوے کے گھر واپس آگیا ہوں۔

امریکا نے جنوبی افریقا کے سفیر کو ملک بدر کردیا

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ابراہیم رسول کو اس وقت ملک بدر کر دیا گیا تھا، جب انھوں نے ٹرمپ کی ’میک امریکا گریٹ اگین‘ تحریک کو امریکا میں تنوع کے خلاف بالادستی کا رد عمل قرار دیا تھا۔

ابراہیم رسول کا کیپ ٹاؤن بین الاقوامی ہوائی اڈے پر برسراقتدار افریقن نیشنل کانگریس پارٹی کے سبز اور پیلے رنگ میں ملبوس سیکڑوں حامیوں نے تالیاں بجا کر استقبال کیا۔

ابراہیم رسول نے مائیکروفون کے ذریعے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”پرسونا نان گریٹا کا اعلان آپ کو ذلت میں مبتلا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے لیکن جب آپ ایسے ہجوم کے سامنے واپس آتے ہیں، اور اتنی محبت اور گرمی سے ملتے ہیں، تو میں اسے اپنی عزت کا تمغہ سمجھوں گا۔“

انہوں نے مزید کہا کہ گھر آنا ہمارا انتخاب نہیں تھا، لیکن بغیر کسی پچھتاوے کے گھر واپس آگیا ہوں۔

ابراہیم رسول کو اس لیے بے دخل کیا گیا کیونکہ انہوں نے ایک ویب نار میں یہ تبصرہ کیا تھا کہ میگا موومنٹ جزوی طور پر ”علیحدگی پسندی کے جذبات“ کا ردعمل ہے۔

ابراہیم رسول کا کہنا تھا، ”مجھے بے دخل کرکے ہمیں رسوا کرنا مقصود تھا، لیکن میں اسے اپنی عزت اور وقار کا نشان سمجھتا ہوں“۔ وہ صدر سیرل راما فوسا کو پیر کے روز اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔

امریکہ نے گزشتہ ماہ جنوبی افریقہ کی حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ فلسطینی شدت پسند گروپ حماس اور ایران کی حمایت کر رہا ہے اور اپنے ملک میں سفید فام مخالف پالیسیوں کو فروغ دے رہا ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکہ کا کسی سفیر کو بے دخل کرنا بہت غیر معمولی ہے۔

Similar Posts