نیتن یاہو کا ’ہاریٹز‘ پر مقدمے کا اعلان، 7 اکتوبر حملے سے پہلے خبردار کیے جانے کا دعویٰ مسترد
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی اخبار ’ہاریٹز‘ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اخبار کی اس رپورٹ کو جھوٹا قرار دے دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے 10 روز پہلے ممکنہ حملے سے خبردار کیا گیا تھا۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق نیتن یاہو نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں رپورٹ کو ’من گھڑت‘ اور ’جھوٹی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے وکلا کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہاریٹز اور رپورٹ کے مصنفین شلومے ایلدار اور روتھ یاوال کے خلاف بھی قانونی کارروائی کریں۔
ہاریٹز نے منگل کو شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے 7 اکتوبر کے حملے سے تقریباً 10 روز پہلے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے حماس کے ممکنہ بڑے حملے سے خبردار کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار نے ایک ذرائع کے ذریعے متحدہ عرب امارات کو پیغام بھیجا تھا کہ وہ ایک ’بہت بڑے سرپرائز‘ کی تیاری کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سنوار نے اپنے رابطوں سے اسرائیل کو یہ پیغام پہنچانے کو کہا تھا کہ ’زلزلے کی توقع رکھیں‘۔
ہاریٹز کے مطابق اماراتی صدر اور ان کے معاونین نے ان پیغامات کو بڑے پیمانے پر حملے کی تیاری کی علامت سمجھا اور یہ معلومات اسرائیل کی داخلی سکیورٹی ایجنسی شن بیت تک پہنچائیں، تاہم ایجنسی نے خطرے کو مسترد کردیا۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اس کے بعد شیخ محمد بن زاید نے براہ راست نیتن یاہو سے بات کرکے انہیں بھی خبردار کیا، لیکن اسرائیلی وزیراعظم نے بھی اس انتباہ کو نظر انداز کردیا۔
متحدہ عرب امارات نے ان الزامات پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ اماراتی وزارت خارجہ نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ ’متحدہ عرب امارات کی حکومت حکومتی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو سے متعلق میڈیا رپورٹس یا قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتی۔‘
دوسری جانب نیتن یاہو نے ہاریٹز کی رپورٹ کو سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’بائیں بازو کی انتخابی مہم‘ کا حصہ ہے۔ انہوں نے اماراتی صدر سے فون پر بات چیت کے دعوے کی بھی تردید کی۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’قومی سلامتی کونسل اور فوجی سیکریٹری نے ان دنوں کے وزیراعظم کے کال ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور انہیں ایسی کسی کال کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔‘
رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب نیتن یاہو اکتوبر میں ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل اپنی وزارت عظمیٰ کی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں میں انہیں سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی جانب سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔
نیتن یاہو نے ایک الگ بیان میں ہاریٹز کی رپورٹ کے پیچھے فلسطینی سیاسی رہنما محمد دحلان کو ذمہ دار قرار دیا۔ دحلان کو 2011 میں فلسطینی جماعت فتح سے نکال دیا گیا تھا اور وہ متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔
تاہم اسرائیلی میڈیا کے مطابق محمد دحلان کے نمائندوں نے نیتن یاہو کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔