میر رضا قتل کیس: ضیا لنجار کی جوڈیشل کمیشن کے سامنے معافی؛ ڈاکٹر اُسامہ کے جواب پرعدم اطمینان

صوبائی وزیرِ داخلہ ضیا الحسن لنجار نے خود پیش ہو کر سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے نواجوان بزنس مین میر رضا علی کے قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔

کمیشن کے سامنے پیش ہوتے ہی صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کمیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بلانے کا شکریہ، میں سندھ حکومت کی طرف سے کمیشن سے معذرت کرتا ہوں اور حکومت کی جانب سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں۔

انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں ہمارے آپ کے پاس آنے کا اصل مقصد ہی اعتماد قائم کرنا تھا۔

ضیا الحسن لنجار نے مزید کہا کہ جب لوگوں کو پولیس یا دیگر اداروں پر اعتماد نہ رہے تو عدالت ہی وہ واحد فورم بچتی ہے جہاں سے امید کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ مظلوم تک ہر صورت انصاف پہنچایا جائے، اور ہمارا اس کمیشن پر پورا اعتماد ہے کیونکہ جسٹس عمر سیال کا کیریئر بالکل بے داغ رہا ہے۔

وزیر داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اور پولیس کا اصل کام یہ ہے کہ ہر صورت حقیقی مجرم تک پہنچا جائے اور اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران کمیشن کی سربراہی کرنے والے جسٹس عمر سیال نے کہا کہ لوگوں کو اس معاملے پر کافی شکوک و شبہات تھے اور مقتول کے والدین کا اعتماد انتہائی نچلی سطح پر آ چکا تھا، ہماری بنیادی کوشش یہ ہے کہ کسی طرح متاثرہ والدین اور عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔

جسٹس عمر سیال نے مزید برآں ایڈووکیٹ جنرل آفس کے رویے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل نے جو کام کیا وہ پہلے سے موجود آگ پر پیٹرول چھڑکنے کے مترادف تھا، کیونکہ ان کے دفتر نے فیملی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

انہوں نے صوبائی وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو صرف پانچ منٹ کی زحمت اس لیے دی گئی ہے تاکہ عوامی اور خاندانی سطح پر اعتماد بحال ہو سکے، حالانکہ سندھ حکومت نے اس معاملے پر بہت اچھا کام بھی کیا ہے۔

کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو دیے گئے شوکاز نوٹس کے جواب پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کردی۔

Related posts